کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ کھانے کو کھا لے، اور اس کو اٹھائے مت اور جنہوں نے اس کو اٹھانے میں رخصت دی ہے
٣٥٥٨٠ - حدثنا معتمر بن سليمان عن زياد بن سعد شيخ من أهل واسط أن ⦗٤٤٠⦘ عبد اللَّه بن عباس لم ير بأسا أن يأكل الرجل الطعام في أرض (الشرك) (١) حتى يدخل أهله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ کوئی شخص مشرکین کی سر زمین میں موجود کھانے میں سے کھالے، یہاں تک کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس چلا جائے۔
٣٥٥٨١ - حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن الحسن بن أبي الحسن وأبي إسحاق أنهما (قالا) (١) في القوم يصيبون الغنيمة: يأكلون ولا يحملون.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ بن ابی الحسن اور حضرت ابو اسحاق رحمہ اللہ ان لوگوں کے متعلق فرماتے ہیں جن کو مال غنیمت حاصل ہو وہ اسے کھا لیں اور اٹھائیں مت۔
٣٥٥٨٢ - حدثنا عبدة بن سليمان عن الأفريقي عن خالد بن أبي عمران قال: سألت القاسم وسالمًا عن الرجل يصيب الطعام في أرض العدو فيصيب منه ويكسب منه الدراهم فقالا: يجعله في طعام يأكله ولا يكسب منه عقدة مال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابو عمران فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم رضی اللہ عنہ اور حضرت سالم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ ایک شخص کو دشمن کی زمین سے کھانا ملے وہ اس کو استعمال کرسکتا ہے اور اس کو دراہم کے بدلے فروخت کرسکتا ہے ؟ فرمایا : کھانا تو کھالے، لیکن اس کو مال کے بدلے فروخت نہ کرے۔