کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان حضرات کا بیان جو فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کے ہاتھ پر اسلام لائے اس کے لئے اس کی میراث میں کچھ بھی نہیں ہے
٣٣٧٤١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن مطرف عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
مطرف شعبی سے اور یونس حسن سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا کہ اس کی میراث مسلمانوں کے لئے ہے، اور اس کا تاوان ان پر ہے۔
٣٣٧٤٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا داود بن أبي عبد اللَّه قال: كانت لنا ظئر ولها ابن أسلم على أيدينا فمات (١) وترك مالًا، فسألت الشعبي فقال: ادفعه إلى أمه.
مولانا محمد اویس سرور
داؤد بن ابی عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ہماری ایک دائی تھی جس کا ایک بیٹا ہمارے ہاتھ پر اسلام لایا تھا، وہ مرگیا اور مال چھوڑ گیا، میں نے حضرت شعبی سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی ماں کو دے دو ۔
٣٣٧٤٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا حسن بن صالح عن مطرف عن الشعبي قال: لا ولاء إلا لذي نعمة.
مولانا محمد اویس سرور
مطرف شعبی سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ ولاء نہیں ہے مگر احسان کرنے والے کے لئے۔
٣٣٧٤٥ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في رجل والى رجلًا فأسلم على يديه قال: لا يرثه إلا أنه إن شاء أوصى له بماله كله.
مولانا محمد اویس سرور
یونس حسن سے اس آدمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو کسی آدمی سے موالاۃ کرے اور وہ اس کے ہاتھ پر اسلام لے آئے، فرمایا کہ وہ اس کا وارث نہیں ہوگا، مگر یہ کہ اگر وہ چاہے تو اس کے لئے پورے مال کی وصیت کرسکتا ہے۔