کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر اسلام لائے، پھر مر جائے، کون حضرات ہیں جو فرماتے ہیں کہ وہ اس کا وارث ہو گا
حدیث نمبر: 33731
٣٣٧٣١ - حدثنا وكيع قال: ثنا عبد العزيز (بن عمر بن عبد العزيز) (١) (عن عبد اللَّه) (٢) بن موهب قال: سمعت تميما الداري يقول: قلت: يا رسول اللَّه، ما ⦗٣٨٨⦘ السنة في الرجل من أهل الكتاب يسلم على يدي الرجل من المسلمين؟ قال: "هو أولى الناس (بمحياه) (٣) ومماته" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اہل کتاب کا جو آدمی مسلمانوں میں سے کسی کے ہاتھ پر اسلام لے آئے اس کے بارے میں کیا سنت ہے ؟ فرمایا کہ وہ لوگوں میں اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد اس کا وارث ہوگا۔
حدیث نمبر: 33732
٣٣٧٣٢ - حدثنا عبد السلام عن خصيف عن مجاهد أن رجلًا أتى عمر فقال: إن رجلا أسلم علي يدي فمات وترك ألف درهم، (فتحرجت) (١) منها، فرفعتها إليك، فقال: أرأيت لو (جنى جناية) (٢) على من كانت تكون؟ قال، علي، قال، فميراثه لك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ ایک آدمی میرے ہاتھ پر اسلام لایا پھر مرگیا اور اس نے ایک ہزار درہم چھوڑے، میں اس سے پریشان ہوا اور آپ کے پاس لایا ہوں، آپ نے فرمایا اگر وہ کوئی جنایت کرتا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوتی ؟ اس نے کہا کہ مجھ پر، فرمایا کہ پھر اس کی میراث بھی تمہارے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 33733
٣٣٧٣٣ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أن عمر بن الخطاب قال: إذا والى رجل رجلًا فله ميراثه وعليه عقله (١).
مولانا محمد اویس سرور
زہری روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا کہ جب کوئی آدمی کسی سے موالاۃ کرے تو اس کی میراث اس کے لئے ہے اور اس کی جنایت اس پر ہے۔
حدیث نمبر: 33734
٣٣٧٣٤ - [حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إذا أسلم على يدي الرجل فله ميراثه وعليه عقله] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کسی کے ہاتھ پر اسلام لے آئے اس کی میراث اس کے لئے ہے اور اس کا تاوان بھی اس پر ہے۔
حدیث نمبر: 33735
٣٣٧٣٥ - حدثنا ابن نمير قال: ثنا عبد العزيز بن عمر قال: قضى أبي في رجل من أهل الذمة أسلم على يدي رجل فمات وترك ابنة، فأعطى ابنته النصف وأعطى الذي أسلم على يديه النصف.
مولانا محمد اویس سرور
عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ حضرت أبی نے ذمیوں میں سے ایک آدمی کے بارے میں فیصلہ فرمایا جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا تھا اور پھر مرگیا اور ایک بیٹی چھوڑ گیا، آپ نے اس کی بیٹی کو نصف مال دیا، اور جس کے ہاتھ پر اسلام لایا تھا اس کو بھی نصف دے دیا۔
حدیث نمبر: 33736
٣٣٧٣٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن قيس بن مسلم عن محمد بن المنتشر عن مسروق قال: كان فينا رجل نازل أقبل من الديلم، فمات وترك ثلاثمائة درهم، فأتيت ابن مسعود فسألته فقال: هل له من رحم؟ أو هل لأحد منكم (عليه) (١) عقد ولاء؟ قلنا: لا، قال: فها هنا (ورثة) (٢) كثير -يعني بيت المال (٣).
مولانا محمد اویس سرور
مسروق فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ہمارے پاس دیلم سے آکر ٹھہرا ہوا تھا ، وہ مرگیا اور اس نے تین سو درہم چھوڑے میں حضرت ابن مسعود کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا اس کا کوئی رشتہ دار ہے ؟ کیا تم میں سے اس کے ساتھ کسی کی موالاۃ ہے ؟ ہم نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا کہ پھر یہاں بہت سے ورثہ ہیں، یعنی بیت المال میں۔
حدیث نمبر: 33737
٣٣٧٣٧ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن أبي الأشعث عن مولاه قال: سألت عمر عن رجل أسلم على يدي (فعاقدني فمات) (١) قال: أنت أحق الناس بميراثه ما لم يترك وارثًا فإن (أبيت فهذا) (٢) بيت المال (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابو الاشعث اپنے مولیٰ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے حضرت عمر سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا جو میرے ہاتھ پر مسلمان ہوا تھا اور اس نے میرے ساتھ معاملہ کیا، اور پھر مرگیا ، فرمایا کہ تم اس کے مال سے مستحق ہو جب کہ اس نے کوئی وارث نہ چھوڑا ہو، اگر تم انکار کرو تو یہ بیت المال ہے۔
حدیث نمبر: 33738
٣٣٧٣٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا الربيع بن أبي صالح الأسلمي عن (شيخ يكنى أبا مدرك) (١) أن رجلًا من أهل السواد يقال له حشي أتى عليا ليواليه فأبى أن يواليه (٢)، قال: فأتى العباس أو ابن العباس فوالاه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ربیع بن ابی صالح أسلمی ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں جن کی کنیت ابو مدرک تھی کہ اھل عراق میں سے ایک شخص جس کو حبشی کہا جاتا تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تاکہ آپ کے ساتھ موالاۃ کرے، آپ نے اس سے موالاۃ کرنے سے انکار کردیا اور اس کو لوٹا دیا، کہتے ہیں کہ پھر وہ حضرت عباس یا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے موالاۃ کرلی۔
حدیث نمبر: 33739
٣٣٧٣٩ - حدثنا غندر عن عثمان بن غياث (قال: سمعت) (١) الحسن يقول في رجل أسلم على يدي رجل فقال: له ميراثه إلا أن يكون له أخت، فإن (كانت) (٢) أخت فلها المال وهي أحق به.
مولانا محمد اویس سرور
عثمان بن غیاث فرماتے ہیں کہ میں نے حسن کو ایک آدمی کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا جو ایک آدمی کے ہاتھ پر اسلام لایا تھا آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے اس کی میراث ہے مگر یہ کہ اس کی کوئی بہن ہو، اگر ہوئی تو اسی کو مال ملے گا اور وہ اس کی زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 33740
٣٣٧٤٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن ابن سيرين أن أبا الهذيل أسلم على يديه رجل، فمات وترك عشرة آلاف (درهم) (١)، فأتى بها أبو (الهذيل) (٢) زيادًا، فقال زياد: أنت أحق بها، فقال: لا حاجة لي فيها، فقال زياد: أنت وارثه، فأبى فأخذها زياد فجعلها في بيت المال.
مولانا محمد اویس سرور
ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ابو الہذیل کے ہاتھ پر ایک آدمی مسلمان ہوا اور پھر مرگیا۔ اور دس ہزار درہم چھوڑ گیا، ابو ہذیل اس کو زیاد کے پاس لائے، زیاد نے فرمایا کہ آپ اس کے مستحق ہیں، انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں، زیاد نے فرمایا کہ آپ اس کے وارث ہیں ، لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا، چناچہ زیاد نے اس کو لیا اور بیت المال میں ڈال دیا۔