کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس عورت کا بیان جو غلام کو آزاد کرے پھر وہ مر جائے ، کہ اس کی ولاء کس کے لئے ہے؟
حدیث نمبر: 33657
٣٣٦٥٧ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن حماد بن الجعد عن قتادة أن امرأة أعتقت مملوكًا لها ثم مات لمن يكون ولاؤه، لعصبتها أو لعصبة (ابنها) (١)، قال: كان الحسن وسعيد بن المسيب (يقولان) (٢): هو لعصبة الغلام.
مولانا محمد اویس سرور
قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے غلام کو آزاد کیا ، پھر وہ مرگیا، اس کی ولاء اس کے عصبہ کے لئے ہے یا اس کے بیٹے کے لئے ہے ؟ فرمایا کہ حسن اور سعید بن مسیب فرماتے تھے کہ وہ غلام کے عصبہ کے لئے ہوگی، قتادہ کہتے ہیں کہ مجھے خلاس نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو غلام کے عصبہ کے لئے ہی بنایا ہے، اور ہمیں صالح بن الخلیل نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہی بات فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33657
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33657، ترقيم محمد عوامة 32168)
حدیث نمبر: 33658
٣٣٦٥٨ - [قال قتادة: وحدثني خلاس أن عليًا جعله لعصبة الغلام] (١) (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33658
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف حماد بن الجعد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33658، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 33659
٣٣٦٥٩ - قال: وحدثنا صالح بن الخليل أن ابن عباس قال ذلك (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33659
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف حماد بن الجعد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33659، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 33660
٣٣٦٦٠ - حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي قال: سمعته يقول: ولد المرأة الذكر أحق بميراث مواليها من عصبتها، وإن كان (جناية) (١) فعلى عصبتها.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل بن سالم فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی کو فرماتے سنا کہ عورت کی مذکر اولاد اس کے موالی کی میراث کی زیادہ حق دار ہے اس کے عصبہ کی بنسبت ، اور اگر کوئی جنایت ہو تو وہ ا س کے عصبہ پر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33660
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33660، ترقيم محمد عوامة 32169)
حدیث نمبر: 33661
٣٣٦٦١ - حدثنا حميد عن حسن عن فراس عن الشعبي عن شريح في امرأة أعتقت رجلًا ثم (ماتت) (١)، قال: الولاء لولدها والعقل عليهم.
مولانا محمد اویس سرور
شریح اس عورت کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے کسی آدمی کو آزاد کیا پھر مرگئی، کہ ولاء اس کی اولاد کے لئے ہے اور دیت ان سب پر ہے ، کہتے ہیں کہ عامر بھی فرماتے تھے کہ ولاء اس کی اولاد کے لئے ہے اور دیت ان سب پر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33661
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33661، ترقيم محمد عوامة 32170)
حدیث نمبر: 33662
٣٣٦٦٢ - قال: وكان عامر يقول: الولاء لولدها والعقل عليهم.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33662
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33662، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 33663
٣٣٦٦٣ - حدثنا أبو أسامة (قال: حدثنا) (١) حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: تزوج رئاب بن حذيفة بن سعيد بن سهم أمَ وائل ابنة (معمر) (٢) الجمحية، فولدت له ثلاثة، فتوفيت أمهم، فورثها بنوها رباعها وولاء مواليها (فخرج) (٣) بهم عمرو بن العاص (معه) (٤) إلى الشام فماتوا في طاعون عمواس، قال: فورثهم عمرو، وكان عصبتهم فلما رجع عمرو (جاء) (٥) بنو ⦗٣٧٥⦘ (معمر) (٦) (فخاصموه) (٧) في ولاء (أختهم) (٨) إلى عمر بن الخطاب فقال عمر: أقضي بينكم بما سمعت من رسول اللَّه ﷺ، سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "ما أحرز الولد أو الوالد فهو لعصبته من كان"، قال: فقضى (لنا به) (٩) وكتب لنا كتابا، فيه (شهادة) (١٠) عبد الرحمن بن عوف وزيد بن ثابت وآخر، حتى إذا استخلف عبد الملك بن مروان (توفي) (١١) مولى (لها) (١٢) وترك ألفي دينار، فبلغني أن ذلك القضاء قد غير، (فخاصموا) (١٣) إلى هشام بن إسماعيل، (فرفعنا) (١٤) إلى عبد الملك فأتيناه (بكتاب) (١٥) عمر فقال: إن كنت لأرى أن هذا من القضاء الذي لا يشك فيه، وما كنت أرى أن أمر (١٦) المدينة بلغ هذا أن يشكوا في هذا القضاء، فقضى لنا (به) (١٧) فلم (نزل) (١٨) فيه بعد (١٩).
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن شعیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا کہ رئاب بن حذیفہ رضی اللہ عنہ بن سعید بن سہم نے امّ وائل بنت معمر جُمحیّہ سے نکاح کیا تو ان کے تین بچے ہوئے، پھر ان کی ماں فوت ہوگئی تو اس کے بیٹے اس کے مال کے وارث ہوئے اور اس کے موالی کی ولاء کے بھی، پھر عمرو بن العاص ان کو شام کی طرف لے گئے تو وہ طاعونِ عَمَواس میں مرگئے، کہتے ہیں کہ اس پر عمرو ان کے وارث ہوئے جو ان کے عصبہ تھے، جب عمرو واپس آئے تو معمر کے بیٹے آئے اور اپنی بہن کی ولاء میں جھگڑا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے ، حضرت عمر نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان وہ فیصلہ کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مال لڑکا یا والد جمع کرلے وہ اس کے عصبہ کے لئے ہے جو بھی ہوں، کہتے ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے اس کا ہمارے لئے فیصلہ کردیا اور ہمارے لیے ایک تحریر لکھ دی جس میں عبد الرحمن بن عوف اور زید بن ثابت اور دوسرے حضرات کی گواہی تھی۔ یہاں تک کہ جب عبد الملک بن مروان خلیفہ بنا تو اس لڑکی کا ایک مولیٰ فوت ہوگیا، اور اس نے دو ہزار دینار چھوڑے، پس مجھے خبر پہنچی کہ وہ فیصلہ تبدیل کردیا گیا ، چناچہ وہ ہشام بن اسماعیل کی طرف جھگڑا لے کر گئے تو ہم نے یہ معاملہ عبد الملک کی طرف اٹھا یا اور اس کے پاس حضرت عمر کی تحریر لائے، اس نے کہا کہ میں تو اس کو ایسا فیصلہ سمجھتا ہوں جس میں شک نہیں کیا جاسکتا، اور میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ اہل مدینہ کا معاملہ اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ وہ اس فیصلہ میں شک کریں، پس اس نے اس کے بارے میں ہمارے لیے فیصلہ کردیا اور ہم بعد میں اس فیصلے پر قائم رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33663
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شعيب صدوق، أخرجه أحمد (١٨٣)، وأبو داود (٢٩١٧)، وابن ماجه (٢٧٣٢)، والنسائي في الكبرى (٦٣٤٨)، وابن عساكر ٦٢/ ٣٩٦، والفاكهي في أخبار مكة (٢٠٨١)، وابن عبد البر في التمهيد ٣/ ٦١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33663، ترقيم محمد عوامة 32171)
حدیث نمبر: 33664
٣٣٦٦٤ - حدثنا يحيى بن (آدم) (١) قال: ثنا مندل عن الأعمش عن إبراهيم قال: قال علي في (المرأة) (٢) تعتق الرجل: الولاء لولدها وولد ولدها ما بقي منهم ذكر، (فإن) (٣) انقرضوا رجع إلى عصبتها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جو آدمی کو آزاد کرے کہ ولاء اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد کے لئے ہے جب تک ان میں مذکر باقی رہے، جب وہ ختم ہوجائیں تو ولاء اس عورت کے عصبہ کی طرف لوٹ آئے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33664
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ مندل فيه ضعف، وإبراهيم لم يدرك عليًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33664، ترقيم محمد عوامة 32172)