کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس بچے کا بیان جو اس حال میں فوت ہو کہ اس سے پہلے اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے جس کا وہ وارث بنتا ہو
حدیث نمبر: 33617
٣٣٦١٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن هشام عن الحسن وابن سيرين (قال) (١): لا يورث المولود حتى يستهل.
مولانا محمد اویس سرور
ہشام حسن اور ابن سیرین سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا کہ بچے کو اسی صورت میں وارث بنایا جائے گا جبکہ وہ پیدا ہونے کے بعد آواز نکالے۔
حدیث نمبر: 33618
٣٣٦١٨ - حدثنا ابن عيينة عن عبد اللَّه بن شريك عن بشر بن غالب قال: سأل ابنُ الزبير الحسينَ بن علي (١) عن المولود فقال: إذا استهل وجب عطاؤه ورزقه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابن غالب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے بچے کی میراث کے بارے میں سوال کیا، آپ نے فرمایا : جب وہ آواز نکالے تو اس کو دینا اور وارث بنانا واجب ہے۔
حدیث نمبر: 33619
٣٣٦١٩ - حدثنا أبو الأحوص عن عبد اللَّه بن شريك عن بشر بن غالب قال: لقي ابن الزبير الحسين بن علي فقال: (يا أبا) (١) عبد اللَّه أفتنا في المولود يولد في الإسلام؟ قال: وجب عطاؤه ورزقه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
بشر بن غالب کہتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان سے کہا : اے ابو عبد اللہ ! ہمیں اس بچے کے بارے میں مسئلہ بیان کریں جو اسلام میں پیدا ہو، آپ نے فرمایا اس کو دینا اور وارث بنانا واجب ہے۔
حدیث نمبر: 33620
٣٣٦٢٠ - حدثنا أسباط بن محمد عن أشعث عن أبي الزبير عن جابر قال: إذا ⦗٣٦٧⦘ استهل الصبي (صلي عليه وورث) (١)، وإذا لم يستهل لم يورث ولم يصل عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابو زبیر حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ جب بچہ پیدا ہونے کے بعد آواز نکال دے تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کو وارث بنایا جائے گا، اور اگر وہ پیدا ہونے کے بعد آواز بھی نہ نکالے تو اس کو وارث نہیں بنایا جائے گا اور نہ ہی اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 33621
٣٣٦٢١ - حدثنا أسباط عن مطرف عن الشعبي قال: إذا استهل الصبي صلي عليه، وورث؟ وإذا لم يستهل لم يصل عليه ولم يورث.
مولانا محمد اویس سرور
مطرّف روایت کرتے ہیں کہ حضرت شعبی نے فرمایا کہ جب بچہ پیدا ہونے کے بعد آواز نکالے تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کو وارث بنایا جائے گا، اور اگر وہ آواز نہ نکالے، تو اس پر نماز نہیں پڑھی جائے گی اور نہ ہی اس کو وارث بنایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 33622
٣٣٦٢٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا استهل تم عقله وميراثه.
مولانا محمد اویس سرور
مغیرہ ابراہیم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ جب بچہ پیدا ہونے کے بعد آواز نکال لے تو اس کی عقل اور اس کی میراث تام ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 33623
٣٣٦٢٣ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه قال في المولود: لا يصلى عليه ولا يورث ولا تكمل فيه الدية حتى يستهل.
مولانا محمد اویس سرور
معمر روایت کرتے ہیں کہ حضرت زہری نے پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں فرمایا کہ اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی اور اس کو وارث نہیں بنایا جائے گا، اور اس میں کامل دیت نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ پیدا ہونے کے بعد آواز نکالے۔
حدیث نمبر: 33624
٣٣٦٢٤ - حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن في (المرأة تلد) (١) ولم يستهل قال: إذا تحرك فعلم أن حركته من حياة وليس من اختلاج ورث، (وإن) (٢) كان إنما حركته اختلاج وليست من حياة لم يورث.
مولانا محمد اویس سرور
عمرو حسن سے روایت کرتے ہیں کہ جو عورت بچہ جنے اور وہ بچہ آواز نکالے تو اس کا حکم یہ ہے اگر وہ حرکت کرے اور اس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ اس کی حرکت زندگی کی وجہ سے ہے اختلاج کی وجہ سے نہیں تو اس کو وارث بنایا جائے گا، اور اگر اس کی حرکت اختلاج کی وجہ سے ہو ، زندگی کی وجہ سے نہ ہو تو اس کو وارث نہیں بنایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 33625
٣٣٦٢٥ - حدثنا ابن فضيل عن (العلاء) (١) بن المسيب عن أبيه قال: لا يصلى على السقط ولا يورث.
مولانا محمد اویس سرور
علاء بن مسیب اپنے والد کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ نامکمل اعضاء والے بچے پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی اور نہ اس کو وارث بنایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 33626
٣٣٦٢٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا شريك عن أبي إسحاق عن عطاء عن ابن عباس قال: إذا استهل الصبي ورث وورث وصلي عليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
عطاء حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ جب بچہ آواز نکال لے تو وہ وارث ہوگا اور اس کی وراثت تقسیم کی جائے گی اور اس پر نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 33627
٣٣٦٢٧ - حدثنا ابن مهدي عن سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد عن القاسم قال: لا يورث المولود حتى يستهل.
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ بن سعید حضرت قاسم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ پیدا ہونے والے بچے کو اس وقت تک وارث نہیں بنایا جائے گا جب تک کہ وہ آواز نہ نکالے۔
حدیث نمبر: 33628
٣٣٦٢٨ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: ولدت امرأة ولدا فشهدن نسوة (أنه) (١) اختلج وولد حيًا، ولم (يشهدن) (٢) على استهلاله، فقال شريح: الحي يرث الميت، ثم أبطل ميراثه لأنهن لم يشهدن على استهلاله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے ایک بچہ جنا ، ا س کے بارے میں عورتوں نے گواہی دی کہ اس نے حرکت کی اور وہ زندہ پیدا ہوا تھا، اور اس کے آواز نکالنے پر گواہی نہیں دی، حضرت شریح نے فرمایا کہ زندہ مردے کا وارث ہوتا ہے۔ پھر آپ نے اس کی میراث کو ختم فرما دیا، کیونکہ عورتوں نے اس کے آواز نکالنے پر گواہی نہیں دی تھی۔