کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ’’ استہلال‘‘ کا بیان، جس کے واقع ہونے سے بچے کو وارث بنایا جاتا ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟
٣٣٦٢٩ - حدثنا ابن مهدي عن زائدة عن مغيرة عن إبراهيم قال: (إلاستهلال) (١) الصياح.
مولانا محمد اویس سرور
مغیرہ روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم نے فرمایا کہ استھلال کا مطلب ہے ” چیخنا “۔
٣٣٦٣٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: استهلال الصبي صياحه (١).
مولانا محمد اویس سرور
عکرمہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ بچے کے استہلال کا مفہوم ہے اس کا چلّانا۔
٣٣٦٣١ - حدثنا ابن مهدي عن سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد قال القاسم ابن محمد: الاستهلال النداء والعطاس.
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ قاسم بن محمد نے فرمایا کہ استہلال کا معنی ہے آواز نکالنا اور چھینکنا۔
٣٣٦٣٢ - حدثنا (معن) (١) بن عيسى عن (ابن) (٢) أبي ذئب عن الزهري قال: أرى العطاس (٣) الاستهلال.
مولانا محمد اویس سرور
ابن ابی ذئب نقل کرتے ہیں کہ زہری فرماتے ہیں کہ میری رائے میں استہلال سے مراد چھینک ہے۔
٣٣٦٣٣ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ قال: "ما من مولود (ولد) (١) إلا نخسه الشيطان، فيستهل صارخا من نخسة الشيطان، إلا ابن مريم وأمه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے شیطان اس کے کچوکا لگاتا ہے جس کی تکلیف سے وہ چلاّنے لگتا ہے ، سوائے ابن مریم اور ان کی والدہ کے۔