کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان دو آدمیوں کا بیان جو کسی عورت کے ساتھ ایک طہر میں جماع کریں اور پھردونوں اولاد کا دعوٰی کریں، کہ اس بچے کاوارث ان میں سے کون ہو گا؟
حدیث نمبر: 33603
٣٣٦٠٣ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن سماك عن (حنش) (١) قال: وقع رجل على وليدة، ثم باعها من آخر، فوقعا عليها فاجتمعا عليها في طهر واحد، فولدت غلامًا فأتوا عليًا، فقال علي: (يرثكما) (٢) وليس لأمه، وهو (للباقي) (٣) منكما بمنزلة أمه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حنش فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک امّ ولد باندی سے جماع کیا، پھر اس کو دوسرے آدمی کے ہاتھ بیچ دیا اور اس نے بھی اس کے ساتھ جماع کیا، اس طرح دونوں نے ایک ہی طہر میں جماع کرلیا، اس کے بعد اس نے ایک بچہ جنا، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مسئلہ لے کر آئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ بچہ تم دونوں کا وارث ہوگا اور اپنی ماں کے لئے نہیں ہوگا ، اور تم میں سے جو باقی رہ جائے وہ اسی کا بچہ ہوگا، بمنزلہ اس کی ماں کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33603
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف حنش، وأخرجه الطحاوي ٤/ ١٦٤، والبيهقي ١٠/ ٢٦٨، وعبد الرزاق (١٣٤٧٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33603، ترقيم محمد عوامة 32117)
حدیث نمبر: 33604
٣٣٦٠٤ - حدثنا (جرير) (١) عن مغيرة عن الشعبي قال: قضى علي في رجلين وطئا امرأة في طهر واحد، فولدت، فقضى أن جعله بينهما، يرثهما ويرثانه وهو (لأطولهما) (٢) حياة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دو آدمیوں کے بارے میں فیصلہ فرمایا جنہوں نے ایک عورت سے ایک طہر میں جماع کیا تھا جس سے اس نے بچہ جنا ، کہ اس بچے کو ان دونوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے، اس طرح کہ وہ بچہ ان دونوں کا وارث ہوگا اور وہ دونوں اس بچے کے وارث ہوں گے، اور ان دونوں میں سے اس کو ملے گا جس کی عمر زیادہ لمبی ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33604
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33604، ترقيم محمد عوامة 32118)
حدیث نمبر: 33605
٣٣٦٠٥ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: قضى عمر فيه بقول القافة (١).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی فرماتے ہیں کہ اس بچے کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قیافہ شناسوں کے قول کے مطابق فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33605
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33605، ترقيم محمد عوامة 32119)
حدیث نمبر: 33606
٣٣٦٠٦ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: دعا عمر (أمة) (١) فسألها من أيهما هو؟ فقالت: ما أدري وقعا علي في طهر، فجعله عمر بينهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باندی کو بلایا اور پوچھا کہ یہ بچہ ان دونوں میں سے کس کا ہے ؟ وہ کہنے لگی مجھے پتہ نہیں، ان دونوں نے مجھ سے ایک طہر میں جماع کیا ہے، چناچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ان دونوں میں تقسیم فرما دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33606
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33606، ترقيم محمد عوامة 32120)
حدیث نمبر: 33607
٣٣٦٠٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الشعبي عن عبد اللَّه بن (١) الحضرمي عن زيد بن أرقم قال: بينا نحن عند رسول اللَّه ﷺ إذ أتاه رجل من اليمن وعلي بها، فجعل (يحدث) (٢) النبي ﷺ ويخبره، قال: يا رسول اللَّه ﷺ، أتى عليًا ثلاثة نفر فاختصموا في ولد، كلهم (٣) زعم أنه ابنه وقعوا على امرأة في طهر واحد، فقال علي: إنكم شركاء متشاكسون، وإني مقرع بينكم، فمن قرع فله الولد، وعليه ثلثا الدية (لصاحبيه) (٤)، قال: فأقرع بينهم، فقرع أحدهم، فدفع إليه الولد، وجعل عليه ثلثي الدية، فضحك رسول اللَّه ﷺ حتى بدت نواجذه أو أضراسه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی یمن سے آیا جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن میں ہی تھے، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باتیں اور خبریں بتانے لگا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! علی رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدمی آئے اور وہ ایک بچے کے بارے میں جھگڑنے لگے، ہر ایک یہ گمان کرتا تھا کہ وہ اس کا بیٹا ہے، جبکہ انہوں نے ایک ہی طہر میں ایک عورت کے ساتھ جماع کیا تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم برابر شریک ہو، اور میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کرتا ہوں، جس کے نام قرعہ نکل آئے بچہ اسی کے لئے ہوگا، اور اس پر دوسرے دو ساتھیوں کے لئے دیت کا دو تہائی دینا لازم ہوگا، کہتے ہیں کہ پھر آپ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا، اور جس کے نام قرعہ نکلا اس کو بچہ دے دیا، اور اس پر دو تہائی دیت لازم کردی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس اٹھے یہاں تک کہ آپ کی آخری داڑھیں یا آپ کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33607
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن الخليل ذكره ابن حبان في الثقات وروى عنه الشعبي وأبو إسحاق السبيعي وجمع، والشعبي إمام ثقة لا يبعد أن يروي الحديث من أوجه متعددة، والحديث أخرجه أحمد (١٩٣٤٢)، وأبو داود (٢٢٧٠)، والنسائي ٦/ ١٨٢، والحاكم ٣/ ١٣٦، وابن ماجه (٢٣٤٨)، والبخاري في التاريخ ٥/ ٧٩، والحميدي (٧٨٥)، والعقيلي ٢/ ٢٤٤، والطبراني (٤٩٩٠)، والطحاوي ٤/ ٣٨٢، والبيهقي ١٠/ ٢٦٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33607، ترقيم محمد عوامة 32121)
حدیث نمبر: 33608
٣٣٦٠٨ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن أبيه عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب عن أبيه أن عمر قضى في رجلين ادعيا رجلًا لا يدرى أيهما أبوه، فقال عمر: للرجل اتبع أيهما شئت (١).
مولانا محمد اویس سرور
عبد الرحمن بن حاطب روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کے بارے میں فیصلہ فرمایا جنہوں نے ایک مجہول النسب آدمی کے نسب کا دعویٰ کیا تھا، اور آپ نے اس مجہول النسب سے کہا، ان دونوں میں سے جس کے ساتھ چاہو جاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33608
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33608، ترقيم محمد عوامة 32122)