کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ولد الزنا کا بیان جس کے نسب کا کوئی آدمی دعویٰ کرے اور وہ کہے کہ یہ میرا باپ ہے، کیا وہ اس کا وارث ہو گا؟
٣٣٥٤٨ - حدثنا روح بن عبادة عن محمد بن أبي حفصة قال: حدثني ابن شهاب عن علي بن حسين أنه كان لا يورث ولد الزنا وإن ادعاه الرجل.
مولانا محمد اویس سرور
ابن شہاب روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین ولد الزنا کو وارث نہیں بناتے تھے، چاہے کوئی آدمی اس کے نسب کا دعویٰ کرے۔
٣٣٥٤٩ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن ابن طاوس قال: قلت له: ما كان أبوك يقول في ولد الزنا (يعتقه) (١) مواليه أو سادته (فيستلحقه) (٢) أبوه وقد علم (مواليه) (٣) أنه ابنه؟ قال: كان يقول: لا يرث.
مولانا محمد اویس سرور
ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس کے بیٹے سے پوچھا کہ آپ کے والد اس ولد الزنا کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس کو اس کے آقا یا اس کے سردارآزاد کردیں اور پھر اس کا والد اس کے نسب کا اقرار کرلے، جبکہ اس کے آقاؤں کو یہ علم ہو کہ یہ اس کا بیٹا ہے ؟ انہوں نے فرمایا، کہ وہ فرماتے تھے، کہ وہ وارث نہیں ہوگا۔
٣٣٥٥٠ - حدثنا الضحاك عن ابن جريج عن عطاء أنه قال: يرثه إذا عرف مواليه أنه ابنه، وإن (أنكر) (١) مواليه وخاصموه لم يرث.
مولانا محمد اویس سرور
ابن جریج روایت کرتے ہیں کہ حضرت عطاء نے فرمایا، کہ ولد الزنا اس کا وارث ہوگا جبکہ اس کے سردار جانتے ہوں کہ یہ اس کا بیٹا ہے، اور اگر اس کے مولیٰ ، انکار کردیں اور جھگڑا کریں تو وہ وارث نہیں ہوگا۔
٣٣٥٥١ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عمرو بن شعيب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من (عهر) (١) بامرأة حرة أو أمة (قوم) (٢) (فإنه) (٣) لا يرث ولا يورث" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابن جریج روایت کرتے ہیں، کہ حضرت عمرو بن شعیب نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو آدمی کسی آزاد عورت کے ساتھ زنا کرے ، یا کسی قوم کی باندی کے ساتھ زنا کرے تو نہ وہ وارث ہوگا ، نہ کوئی دوسرا اس کا وارث ہوگا۔
٣٣٥٥٢ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن اشعث عن محمد في ابن (تولد) (١) من الزنا قال: لا يلحق.
مولانا محمد اویس سرور
اشعث روایت کرتے ہیں کہ محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زنا سے پیدا ہونے والا بچہ زانی سے ثابت النسب نہیں ہوسکتا۔
٣٣٥٥٣ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن (شباك) (١) عن إبراهيم قال: لا يرث ولد الزنا، (ولا) (٢) يرث من لا يقام على أبيه الحد (و) (٣) يملك أمه بنكاح أو شراء.
مولانا محمد اویس سرور
شباک روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم نے فرمایا، کہ حرامی بچہ وارث نہیں ہوگا، صرف وہ بچہ وارث ہوگا جس کے باپ پر حد قائم نہ کی جائے ، اور اس کی ماں نکاح یا خریداری کے ذریعے سے ملکیت میں آئی ہو۔
٣٣٥٥٤ - حدثنا يحيى بن أدم عن زهير عن الحسن بن الحر عن الحكم قال: حدثني أن ولد الزنا لا يرثه الذي يدعيه ولا يرثه المولود.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بن حُر روایت کرتے ہیں کہ حضرت حکم نے مجھے یہ بیان کیا، کہ ولد الزنا کا وہ آدمی وارث نہیں ہوسکتا جو اس کے نسب کا اقرار کرے، اور نہ وہ ولد الزنا اس کا وارث ہوگا۔