کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان حضرات کا ذکر جو میراث کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ان میں ’’ عول ‘‘ نہیں ہوتا اور ان حضرات کا بیان جو ’’ عول‘‘ ہونے کے قائل ہیں
٣٣٢٨٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال: الفرائض لا تعول (١).
مولانا محمد اویس سرور
عطاء حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ میراث کے حصّوں میں ” عول “ نہیں ہوتا۔
٣٣٢٨٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن علي وعبد اللَّه وزيد أنهم أعالوا الفريضة (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ یہ حضرات میراث میں ” عول “ کے قائل ہیں۔
٣٣٢٨٥ - (حدثنا) (١) وكيع قال: حدثنا سفيان عن (هشام) (٢) عن ابن سيرين عن شريح في أختين لأب وأم وأختين لأم وزوج وأم، قال: من عشرة: للأختين من الأب والأم أربعة، وللأختين من الأم سهمان، وللزوج ثلاثة أسهم، وللأم سهم.
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن سیرین نقل کرتے ہیں کہ حضرت شریح نے دو حقیقی بہنوں، دو ماں شریک بہنوں ، شوہر اور ماں کے مسئلے کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ یہ دس حصّوں سے نکلے گا، چار حصّے دونوں حقیقی بہنوں کے لئے، دو حصّے دونوں ماں شریک بہنوں کے لئے، تین حصّے شوہر کے لئے، اور ایک حصّہ ماں کے لئے۔ وکیع فرماتے ہیں کہ لوگ یہی رائے رکھتے ہیں، اور یہی تقسیم ابن الفرّوخ رحمہ اللہ کی ہے۔