کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: یہ باب ہے یہودی اور نصرانی کے لئے وصیت کرنے کے بیان میں اور یہ کہ کون حضرات اس کو جائز سمجھتے ہیں
حدیث نمبر: 32799
٣٢٧٩٩ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن يحيى بن سعيد قال: بلغني أن صفية أوصت لقرابة لها بمال عظيم أو كثير من اليهود كانوا ورثتها لو كانوا مسلمين، ورثها غيرهم من المسلمين، وجاز لهم ما أوصت (١).
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے رشتہ داروں کے لئے بہت سے مال کی وصیت کی تھی، اور بہت سے یہودی ان کے خاندان کے ایسے تھے اگر وہ مسلمان ہوتے تو ان کے وارث ہوتے، لیکن ان کے کافر ہونے کی وجہ سے ان کے خاندان کے مسلمان ان کے وارث ہوئے، اس لئے جو مسلمان نہ تھے ان کے حق میں ان کی وصیت نافذ ہوگئی۔
حدیث نمبر: 32800
٣٢٨٠٠ - حدثنا وكيع (عن) (١) سفيان عن ليث عن نافع أن صفية أوصت لقرابة لها يهودي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بعض رشتہ داروں کے لئے وصیت کی تھی جو یہودی تھے۔
حدیث نمبر: 32801
٣٢٨٠١ - حدثنا معاذ عن أشعث عن محمد قال: وصية الرجل جائزة لذمي كان أو لغيره.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آدمی کی وصیت جائز ہے ذمّی کے لئے ہو یا کسی اور کے لئے۔
حدیث نمبر: 32802
٣٢٨٠٢ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن الحكم عن إبراهيم قال: كان يقول: الوصية لليهودي والنصراني والمجوسي و (المملوك) (١) جائزة.
مولانا محمد اویس سرور
حکم روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم فرمایا کرتے تھے کہ یہودی ، نصرانی، مجوسی اور غلام کیلئے وصیت کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 32803
٣٢٨٠٣ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن عطاء أن امرأة من أزواج النبي ﷺ أوصت لقرابة لها من اليهود (١).
مولانا محمد اویس سرور
لیث حضرت عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ نے اپنے یہودی رشتہ داروں کے لئے وصیت کی تھی۔
حدیث نمبر: 32804
٣٢٨٠٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن عامر قال: لا بأس أن يوصي لليهودي والنصراني.
مولانا محمد اویس سرور
جابر حضرت عامر سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ یہودی اور نصرانی کے لئے وصیت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 32805
٣٢٨٠٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن شعبة عن قتادة: ﴿إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا إِلَى أَوْلِيَائِكُمْ مَعْرُوفًا﴾ [الأحزاب: ٦]، قال: أولياؤك من أهل الكتاب، يقول: وصية ولا ميراث لهم.
مولانا محمد اویس سرور
قتادہ آیت {إلاَّ أَنْ تَفْعَلُوا إلَی أَوْلِیَائِکُمْ مَعْرُوفًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آیت میں اولیاء سے مراد اہل کتاب میں سے اولیاء ہیں جن کے بارے میں یہ حکم ارشاد ہے کہ ان کے لئے وراثت نہیں لیکن وصیت ہوسکتی ہے۔
حدیث نمبر: 32806
٣٢٨٠٦ - حدثنا عمر بن (هارون) (١) عن ابن جريج عن عطاء قال: سمعه وهو يسأل عن الوصية لأهل الشرك قال: لا بأس بها.
مولانا محمد اویس سرور
ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء کو فرماتے سنا جبکہ ان سے مشرکین کے لئے وصیت کرنے کا حکم پوچھا جا رہا تھا ، فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔