کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: یہ باب ہے عورت کو وصیت نافذ کرنے کی ذمّہ دار بنانے کے بیان میں
٣٢٨٠٧ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو بن دينار أن عمر أوصى إلى حفصة (١).
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کو اپنی وصیت کی ذمہ داری دی۔
٣٢٨٠٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا أبو (جناب) (١) عن أبي عون الثقفي أن رجلًا أوصى إلى امرأته فأجاز ذلك شريح.
مولانا محمد اویس سرور
ابو عون ثقفی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو اپنی وصیت پورا کرنے کی ذمہ دار بنایا، تو حضرت شریح نے اس کی اجازت دے دی۔
٣٢٨٠٩ - حدثنا أبو أسامة عن (عمر بن) (١) عمرو الأزدي قال: حدثتني خالتي، وكانت امرأة إبراهيم قالت: أوصى إلي إبراهيم بشيء من وصيته.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کی اہلیہ فرماتی ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ نے مجھے اپنی وصیت کے کچھ حصّے کے نافذ کرنے کی ذمہ داری دی۔
٣٢٨١٠ - حدثنا عبدة عن عبد الملك عن عطاء قال: لا تكون المرأة وصيًا، فإن فعل نظر إلى رجل يوثق به فجعل ذلك إليه.
مولانا محمد اویس سرور
عبد الملک حضرت عطاء سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا کہ عورت کو وصیت نافذ کرنے کی ذمہ داری نہیں سونپی جاسکتی، اگر کوئی آدمی ایسا کر بیٹھے تو کوئی بااعتبار آدمی ڈھونڈ کر اس کو یہ ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔
٣٢٨١١ - وسمعت وكيعا يقول: قال سفيان: تكون وصيًا، رب امرأة خير من رجل.
مولانا محمد اویس سرور
وکیع فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان کو یہ فرماتے سنا کہ عورت وصیت کی ذمہ دار بن سکتی ہے کیونکہ بہت سی عورتیں آدمی سے بہتر ہوتی ہیں۔