٣٠٨٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن مطرف عن عامر قال: إذا هرب إلى الحرم فقد أمن فإن أصابه في الحرم أقيم عليه الحد في الحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا : جب وہ حرم کی طرف بھاگ گیا تو تحقیق وہ امن میں ہوگیا، پس اگر اس نے حرم میں کوئی قابل سزا کام کیا تو حرم میں اس پر حد قائم کی جائے گی۔
٣٠٨٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ليث عن عطاء أن الوليد (١) أراد أن يقيم على رجل الحد في الحرم، فقال له عبيد بن عمير: لا تقمه إلا أن يكون أصابه فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ولید نے حرم میں ایک آدمی پر حد قائم کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت عبید بن عمیر نے ان سے فرمایا : تم اس پر حد قائم مت کرو مگر جبکہ اس نے حرم میں ہی قابل سزا کام کیا ہو۔
٣٠٨٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن هشام عن الحسن وعطاء (قالا) (١): إذا أصاب حدًّا في غير الحرم، ثم (لجأ) (٢) إلى الحرم، أخرج من الحرم حتى يقام عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن بصری اور حضرت عطاء نے ارشاد فرمایا : جب کسی پر حرم کے علاوہ میں حد لازم ہوئی پھر اس نے حرم میں پناہ لے لی تو اس کو حرم سے نکالا جائے گا یہاں تک کہ اس پر حد قائم کردی جائے۔
٣٠٨٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن خصيف عن مجاهد قال: إذا أصاب الرجل الحد في غير الحرم ثم أتى الحرم، أخرج من الحرم، (فأقيم) (١) عليه الحد، وإذا أصابه في الحرم أقيم عليه في الحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خصیف فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : جب آدمی پر غیر حرم میں حد لازم ہوجائے پھر وہ حرم میں آجائے تو اسے حرم سے نکالا جائے گا پھر اس پر حد قائم کی جائے گی اور جب حرم میں ہی اس پر حد لازم ہوگئی تو حرم میں ہی اس پر حد قائم کی جائے گی۔
٣٠٨٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام بن حرب عن خصيف عن مجاهد أن رجلا قتل رجلا ثم دخل الحرم، قال: يؤخذ فيخرج به من الحرم، ثم يقام عليه الحد (١)، يقول: القتل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خصیف فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کسی آدمی کو قتل کردیا پھر وہ حرم میں داخل ہوگیا۔ آپ نے فرمایا : اس کو پکڑا جائے گا اور حرم سے باہر نکالا جائے گا پھر اس پر حد قائم کردی جائے گی آپ نے فرمایا : وہ قتل ہوگا۔
٣٠٨٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن عطاء (١) عن سعيد وعبد الملك عن عطاء في الرجل يقتل ثم يدخل الحرم، قال: لا تبايعه أهل مكة ولا يشترون منه ولا يسقونه ولا يطعمونه ولا يؤوونه، ولا ينكحونه حتى يخرج فيؤخذ به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حضرت سعید اور حضرت عطاء سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جو قتل کر دے پھر حرم میں داخل ہوجائے، فرمایا : مکہ والے اس سے خریدو فروخت نہیں کریں گے اور نہ اسے پلائیں گے اور نہ کھلائیں گے اور نہ اس کو پناہ دیں گے اور نہ اس سے نکاح کریں گے۔ یہاں تک کہ وہ نکل جائے پس اس کو پکڑ لیا جائے گا۔
٣٠٨٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) معاوية عن حجاج عن عطاء عن ابن عمر وابن عباس قالا: لو وجدنا قاتل آبائنا في الحرم لم نقتله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : اگر ہم اپنے آباؤاجداد کے قاتل کو بھی حرم میں پالیں تو ہم اس کو قتل نہیں کریں گے۔
٣٠٨٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادا عن الرجل يقتل ثم يدخل الحرم، قال حماد: يخرج فيقام (عليه) (١) الحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے اس آدمی کے متعلق دریافت کیا جو قتل کر دے پھر حرم میں داخل ہوجائے اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت حماد نے فرمایا : اس کو نکالا جائے گا پھر اس پر حد قائم کی جائے گی اور حضرت حکم نے فرمایا : اس سے خریدو فروخت نہیں کی جائے گی اور اس کو کھانا نہیں کھلایا جائے گا۔