کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جھپٹی ہوئی چیز کے بیان میں کیا اس میں کاٹنے کی سزا ہوگی یا نہیں؟
٣٠٥٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر قال: ليس على المختلس ولا على المستلب ولا الخائن قطع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرات ابو الزبیر فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے ارشاد فرمایا : چیز جھپٹنے والے پر اور لوٹنے والے پر اور خیانت کرنے والے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری نہیں ہوگی۔
٣٠٥٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو عاصم عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر (رفعه بنحوه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الزبیر سے حضرت جابر کا مذکورہ ارشاد اس سند سے مرفوعاً منقول ہے۔
٣٠٥٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن معمر عن الزهري أن مروان سأل زيد بن ثابت عن الخلسة فلم ير فيها قطعًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زھری فرماتے ہیں کہ مروان نے حضرت زید بن ثابت سے چیز جھپٹنے کے متعلق سوال کیا ؟ آپ نے اس میں ہاتھ کاٹنے کی رائے نہیں رکھی۔
٣٠٥٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن الحكم قال: قال علي: ليس على المختلس قطع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : چیز جھپٹنے والے پر کاٹنے کی سزا جاری نہیں ہوگی۔
٣٠٥٧٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر عن سعيد عن قتادة عن خلاس أن عليًا لم يكن يقطع في الخلسة] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلاس فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چیز جھپٹنے میں ہاتھ نہیں کاٹا۔
٣٠٥٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر عن سعيد عن قتادة أن غلاما اختلس طوقا فرفع إلى (عدي) (١) (٢) بن أرطأة، فسأل الحسن عن ذلك فقال: لا قطع ⦗٤٦٧⦘ عليه، وسأل عن ذلك أياس بن معاوية، فأمر بقطعه، فلما اختلفا كتب في ذلك إلى عمر بن عبد العزيز، فكتب إليه عمر: إن العرب كانت تدعوها عدوة الظهيرة، لا قطع عليه (و) (٣) لكن أوجع ظهره وأطل حبسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک غلام نے طوق جھپٹ لیا یہ معاملہ حضرت عدی بن ارطاۃ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس بارے میں حسن بصری سے پوچھا ؟ انہوں نے فرمایا : اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری نہیں ہوگی۔ اور آپ نے حضرت ایاس بن معاویہ سے پوچھا ؟ انہوں نے اختلاف کا ا تو آپ نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھا حضرت عمر نے آپ کو جواب لکھا : بیشک اہل عرب اس کو دن کی چوری پکارتے تھے اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری نہیں ہوگی لیکن تم اس کی کمر کو تکلیف پہنچاؤ اور اس کو لمبی قید میں رکھو۔
٣٠٥٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام أن عديًا رفع إليه رجل اختلس خلسة، فقال أياس: عليه القطع، وقال الحسن: لا قطع عليه، فكتب عدي إلى عمر بن عبد العزيز فقال: ليس عليه قطع، قال: وكانت العرب (تسميها) (١) عدوة الظهيرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت عدی کے پاس ایک معاملہ پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے کوئی چیز جھپٹ لی تھی۔ حضرت ایاس نے فرمایا : اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری ہوگی اور حسن بصری نے ارشاد فرمایا : اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزاجاری نہیں ہوگی تو حضرت عدی نے اس بارے میں حضرت عمربن عبدالعزیز کو خط لکھا تو آپ نے فرمایا : اس پر ہاتھ کاٹنے سزا جاری نہیں ہوگی اس لیے کہ اہل عرب اسے دن کی چوری پکارتے تھے۔
٣٠٥٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن (و) (١) محمد قالا: ليس في الخلسة قطع.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری فرماتے ہیں کہ محمد نے ارشاد فرمایا : جھپٹنے میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہوگی۔