٣٠٥٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (١) سفيان عن يزيد بن (خصيفة) (٢) عن (ابن) (٣) ثوبان أن النبي ﷺ (قطع) (٤) يد رجل ثم حسمه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ثوبان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹا پھر خون روکنے کے لیے اسے داغ دیا۔
٣٠٥٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن يزيد بن خصيفة عن محمد بن عبد الرحمن (رفعه) (١) مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبدالرحمن سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکورہ فعل اس سند سے منقول ہے۔
٣٠٥١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن أبي سفيان أن ابن الزبير أتي بسارق فقطعه، فقال له أبان بن عثمان: (أحسمه) (١) فقال (له) (٢): إنك به لرحيم، قال: لا، ولكنه من السنة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن ابو سفیان فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر کے پاس ایک چور لایا گیا پس آپ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا اس پر حضرت ابان بن عثمان نے ان سے فرمایا : اس کو داغ دو ۔ آپ نے فرمایا : تم تو اس پر بہت رحم کرنے والے ہو۔ آپ نے فرمایا : نہیں لیکن یہ عمل سنت ہے۔
٣٠٥١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (سهل) (١) بن يوسف عن عمرو عن الحسن قال: من السنة حسم السارق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : چور کو داغ دینا سنت طریقہ ہے۔
٣٠٥١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك بن أبجر عن سلمة بن كهيل عن (حجية) (١) أن عليًا كان يقطع اللصوص ويحسمهم ويحبسهم ويداويهم، فإذا برؤا (قال) (٢): ارفعوا أيديكم، فيرفعونها كأنها أيور الحمر (ثم يقول) (٣): من قطعكم؟ (فيقولون) (٤): علي، ⦗٤٥٣⦘ (فيقول) (٥): ولم؟، فيقولون: إنا سرقنا، فيقول: (اللهم) (٦) (اشهد) (٧) (اللهم اشهد) (٨) (٩) اذهبوا (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ چوروں کے ہاتھ کاٹتے اور ان کو داغ دیتے پھر ان کو قید کردیتے اور ان کا دو ادوار کرتے۔ پس جب زخم تندرست ہوجاتا فرماتے ، اپنے ہاتھوں کو اٹھاؤ سو وہ ان کو اٹھاتے گویا کہ وہ سرخ عضو تناسل ہوں پھر آپ فرماتے : تمہارے ہاتھ کس نے کاٹے ؟ وہ جواب دیتے : علی رضی اللہ عنہ نے۔ آپ فرماتے : کیوں کاٹے ؟ وہ جواب دیتے۔ ہم نے چوری کی تھی۔ پس آپ فرماتے اے اللہ : تو گواہ رہ اے اللہ ! تو گواہ رہ، تم چلے جاؤ۔