حدیث نمبر: 30106
٣٠١٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن يحيى بن سعيد قال: جلد أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عبدًا قذف حرًا ثمانين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے ایک غلام کو اسی کوڑے مارے جس نے ایک آزاد شخص پر تہمت لگائی۔
حدیث نمبر: 30107
٣٠١٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: يضرب ثمانين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت زھری نے ارشاد فرمایا : اس غلام کو اسی کوڑے مارے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 30108
٣٠١٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود عن المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال: يضرب ثمانين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعودی فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بن عبدالرحمن نے ارشاد فرمایا : اس کو اسی کوڑے مارے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 30109
٣٠١٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة قال: حدثني جرير بن حازم قال: قرأت (كتاب) (١) عمر بن عبد العزيز إلى عدي بن أرطأة: أما بعد، كتبت تسأل عن العبد (يقذف) (٢) الحر (كم) (٣) يجلد؟ وذكرت أنه بلغك أني كنت أجلد إذ أنا بالمدينة أربعين جلدة، ثم جلدته في آخر عملي ثمانين جلدة، وأن جلدي الأول كان رأيًا رأيته، وأن جلدي (الأخير) (٤) وافق كتاب اللَّه، فاجلده ثمانين جلدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر بن حازم فرماتے ہیں کہ میں نے عدی بن ارطاہ کو لکھے گئے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے خط کو پڑھا، حمد و صلوۃ کے بعد آپ نے اس غلام کے متعلق پوچھا جس نے آزاد پر بری تہمت لگائی ہو کہ اس کو کتنے کوڑے لگائے جائیں گے، اور آپ نے ذکر کیا ہے کہ آپ کو خبر پہنچی ہے کہ میں جب مدینہ میں تھا تو میں نے غلام کو چالیس کوڑے لگائے تھے پھر میں نے اس غلام کو اپنے آخری عمل میں اسی کوڑے لگائے تھے اور بیشک میں نے جو پہلے کوڑے مارے تھے وہ میری اپنی رائے تھی جو میں نے قائم کی تھی اور بیشک میں نے آخری عمل میں جو کوڑے مارے تھے وہ کتاب اللہ سے موافقت تھی پس تم بھی اسے اسی کوڑے مارو۔
حدیث نمبر: 30110
٣٠١١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (ابن مهدي عن) (١) سفيان عن عبد اللَّه بن أبي بكر قال: ضرب عمر بن عبد العزيز العبد يقذف: ثمانين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن ابوبکر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے تہمت لگانے والے غلام کو اسی کوڑے مارے۔