کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: اس آدمی کابیان جو اپنے بیٹے پر تہمت لگائے اس پر کیا لازم ہوگا؟
❮
❯
٣٠١١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن (رزيق) (١) قال: كتبت إلى عمر بن عبد العزيز في رجل قذف ابنه، فقال ابنه: إن جلد أبي اعترفت، فكتب إليه عمر أجلده إلا أن يعفو عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رزیق فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ایسے آدمی کے بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھا جس نے اپنے بیٹے پر تہمت زنا لگائی تھی۔ اس کے بیٹے نے کہا : اگر میرے باپ کو کوڑے مارے گئے تو میں اعتراف کرلوں گا۔ سو حضرت عمر نے اس کو خط کا جواب لکھا میں اسے کوڑے ماروں گا مگر یہ کہ وہ اس کو معاف کردے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30111
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30111، ترقيم محمد عوامة 28824)
٣٠١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عطاء في الرجل يقذف ابنه فقال: لا يجلد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے ایسے آدمی کے بارے میں مروی ہے جس نے اپنے بیٹے پر تہمت لگائی اس پر آپ نے فرمایا : اسے کوڑے نہیں مارے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30112
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30112، ترقيم محمد عوامة 28825)
٣٠١١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن مبارك عن الحسن في الرجل يقذف ابنه قال: ليس عليه حد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مبارک فرماتے ہیں کہ حسن بصری سے ایسے آدمی کے بارے میں مروی ہے جس نے اپنے بیٹے پر تہمت لگائی آپ نے فرمایا : اس پر حد نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30113
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30113، ترقيم محمد عوامة 28826)