کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس ذمی کا بیان جس نے مسلمان پر تہمت لگائی
حدیث نمبر: 30087
٣٠٠٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن في النصراني يقذف المسلم، قال: (يجلد) (١) ثمانين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حسن بصری سے ایسے عیسائی کے بارے میں مروی ہے جس نے مسلمان پر تہمت لگائی ہو آپ نے ارشاد فرمایا : اس کو اسی کوڑے مارے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30087
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30087، ترقيم محمد عوامة 28800)
حدیث نمبر: 30088
٣٠٠٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (طارق) (١) قال: شهدت الشعبي ضرب نصرانيًا قذف مسلمًا ثمانين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق فرماتے ہیں کہ میں حضرت شعبی کے پاس حاضر تھا انہوں نے ایک عیسائی کو اسی کوڑے لگائے جس نے مسلمان پر تہمت لگائی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30088
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30088، ترقيم محمد عوامة 28801)
حدیث نمبر: 30089
٣٠٠٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن هشام بن عروة عن أبيه قال: إذا قذف النصراني المسلمَ جُلد الحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : جب عیسائی مسلمان پر تہمت لگائے تو اسے حد لگائی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30089
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30089، ترقيم محمد عوامة 28802)
حدیث نمبر: 30090
٣٠٠٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب عن (الزهري) (١) قال: في أهل الذمة يُجلدون في الفرية على المسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ امام زہری نے ذمیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا : ان کو مسلمانوں پر تہمت لگانے کے جرم میں کوڑے لگائے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30090
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30090، ترقيم محمد عوامة 28803)
حدیث نمبر: 30091
٣٠٠٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن مطرف عن عامر قال: أتاني مسلمٌ وجرمقاني قد افترى كل واحد منهما على صاحبه، فجلدت الجرمقاني وتركت المسلم فأتى عمر بن عبد العزيز فذكر (ذلك له) (١) فقال: (أحسن) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا : میرے پاس ایک مسلمان اور نبطی شخص آیا، تحقیق ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھی پر جھوٹا الزام لگایا تھا آپ فرماتے ہیں : میں نے اس نبطی کو کوڑے لگائے اور مسلمان کو چھوڑ دیا، سو وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا اور آپ کے سامنے ذکر کیا۔ آپ ن فرمایا : انہوں نے اچھا کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30091
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30091، ترقيم محمد عوامة 28804)
حدیث نمبر: 30092
٣٠٠٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عاصم قال: شهدت الشعبي (وضرب) (١) نصرانيًا قذف مسلمًا فقال: اضرب، ولا يرى إبطك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں امام شعبی کے پاس حاضر تھا درآنحالیکہ آپ نے ایک عیسائی کو مارا جس نے ایک مسلمان پر تہمت لگائی تھی۔ آپ نے فرمایا : مار اور تیری بغل نہ دکھائی دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30092
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30092، ترقيم محمد عوامة 28805)