کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس یہودی اور عیسائی عورت کا بیان جس پر تہمت لگائی گئی درانحالیکہ اس کا شوہر یا بیٹا مسلمان ہو
٣٠٠٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن سئل عن رجل قذف نصرانية قال: يضرب إن كان لها زوج مسلم.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ حسن بصری سے ایسے آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جس نے عیسائی عورت پر تہمت لگائی ہو ؟ آپ نے فرمایا : اس کو مارا جائے گا اگر اس عورت کا خاوند مسلمان ہو۔
٣٠٠٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب في النصرانية واليهودية تقذف ولها زوج مسلم ولها منه ولد، قال: على قاذفها الحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب سے عیسائی اور یہودیہ عورت کے بارے میں مروی ہے جن پر تہمت لگائی گئی درآنحالیکہ اس کا خاوند مسلمان ہو اور اس کا اس سے ایک بچہ بھی ہو۔ آپ نے فرمایا : اس تہمت لگانے والے پر حد ہوگی۔
٣٠٠٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن سعيد عن أبي (معشر) (١) عن إبراهيم قال: إذا كانت اليهودية والنصرانية تحت رجل مسلم فقذفها رجل فلا حد عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو معشر فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب یہودیہ اور عیسائی عورت کسی مسلمان آدمی کے تحت ہوں پھر کسی آدمی نے ان پر تہمت لگادی تو اس پر کوئی حد نہیں ہوگی۔
٣٠٠٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن الشيباني عن أبي بكر بن حفص أن رجلًا قذف نصرانية ولها ابن مسلم، فضربه عمر بن عبد العزيز أربعة وثلاثين سوطًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن حفص فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عیسائی عورت پر تہمت لگائی درآنحالیکہ اس کا بیٹا مسلمان تھا، تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس آدمی کو چونتیس کوڑے لگائے۔