٢٩٨٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ابراہیم سے ایسے دو غلاموں کے بارے میں مروی ہے کہ جن میں سے ایک نے اپنے ساتھی کی آنکھ پھوڑ دی۔ آپ نے فرمایا : اگر ان دونوں کی قیمت برابر ہے تو آنکھ کے بدلے میں آنکھ پھوڑی جائے گی اور اگر ان میں سے ایک کی قیمت دوسرے سے زیادہ ہے تو زیادہ قیمت والے کو کم قیمت والے پر لوٹائیں گے۔
٢٩٨٧٦ - وعن حماد عن إبراهيم في العبدين يفقأ أحدهما عين صاحبه، قال: إن كانت قيمتهما سواء فالعين بالعين، وإن كانت قيمة أحدهما أكثر من (الآخر) (١) (رد) (٢) الأكثر على الأقل.
٢٩٨٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: العبد يقتل العبد عمدًا، المقتول خير من القاتل؟ قال: ليس لسادة المقتول إلا قاتل عبدهم [ليس لهم غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا اس غلام کے متعلق جس نے قصداً ایک غلام کو قتل کردیا درا نحالی کہ مقتول قاتل سے بہتر تھا تو اس کا کیا حکم ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : مقتول کے آقا کو صرف اپنے غلام قاتل ملے گا انہیں اس کے سوا کچھ نہیں ملے گا اور حضرت عمرو بن دینار نے اس کے جواب میں فرمایا : انہیں صرف اپنے غلام کا قاتل ملے گا اگر وہ چاہیں تو اسے قتل کردیں اور اگر چاہیں تو اسے غلام بنالیں۔
٢٩٨٧٨ - وقالها عمرو بن دينار: ليس لهم إلا قاتل عبدهم] (١) (إن شاءوا) (٢) قتلوه، وإن شاءوا استرقوه.