٢٩٨٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن عبد الملك بن أبي (غنية) (١) (عن أبيه) (٢) عن الحكم أن (العباس) (٣) بن عبد المطلب لطم رجلًا فأقاده النبي ﷺ من العباس، فعفا عنه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب نے کسی آدمی کو طمانچہ مارا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس سے بدلہ لینے کا ارادہ کیا تو اس نے ان کو معاف کردیا۔
٢٩٨٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو عبد الرحمن المسعودي (١) عبد اللَّه بن عبد الملك بن أبي [عبيدة] (٢) عن ناجية أبي الحسن عن أبيه أن عليًّا (قال) (٣) في رجل (لطم) (٤) رجلًا فقال (للملطوم) (٥): اقتص (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ناجیہ ابو الحسن کے والد حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسے آدمی کے بارے میں جس نے کسی آد می کو طمانچہ مار دیا تھا تو آپ نے طمانچہ کھانے والے سے فرمایا : تم اس سے بدلہ لے لو۔
٢٩٨٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الحسن بن صالح عن مخارق عن طارق بن شهاب أن خالد بن الوليد أقاد رجلًا من مراد من لطمة ⦗٣٠٩⦘ (لطمه) (١) ابن أخيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شھاب فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید نے قبیلہ مراد کے ایک آدمی سے طمانچہ مارنے کی وجہ سے قصاص دلوایا جس کو اس کے بھتیجے نے طمانچہ مارا تھا۔
٢٩٨٥٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن مخارق عن طارق أن خالد بن الوليد أقاد من لطمة] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید نے طمانچہ کی وجہ سے قصاص لیا۔
٢٩٨٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن شريح أنه أقاد من لطمة (وخماش) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے طمانچہ اور معمولی زخم کی صورت میں بھی قصاص لیا۔
٢٩٨٥٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: نا سفيان عن أبي إسحاق عن شريح أنه أقاد من لطمة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے طمانچہ مارنے کی صورت میں قصاص لیا۔
٢٩٨٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن ابن الزبير أنه أقاد من لطمة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے طمانچہ کی صورت میں قصاص لیا۔
٢٩٨٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو عبد الرحمن المسعودي عن زرارة بن (نجي) (١) عن أبيه أن المغيرة بن عبد اللَّه أقاد من لطمة.
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن عبداللہ نے طمانچہ مارنے کی صورت میں قصاص لیا۔
٢٩٨٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة (عن شعبة) (١) عن يحيى بن ⦗٣١٠⦘ (الحصين) (٢) قال: سمعت طارق بن شهاب يقول: لطم أبو بكر يوما رجلًا لطمة، فقيل: ما رأينا كاليوم قط (مَنَعه) (٣) ولطمه، فقال أبو بكر: إن هذا أتاني (يستحملني) (٤) فحملته، فإذا هو (يبيعهم) (٥) (فحلفت) (٦) أن لا أحمله: واللَّه لا (أحمله) (٧) ثلاث مرات، ثم قال له: اقتص، فعفا الرجل (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شھاب فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے ایک دن کسی آدمی کو طمانچہ مار دیا، تو یوں کہا گیا ؟ ہم نے ہرگز آج کی طرح کبھی نہیں دیکھا ! انہوں نے اس کو روکا اور اسے طمانچہ ماردیا ! اس پر حضرت ابوبکر نے فرمایا : بیشک یہ میرے پاس آیا تا کہ وہ مجھ سے سواری مانگے سو میں نے اسے سوار کردیا تو اس نے اس کو فروخت کردیا۔ پس میں نے قسم اٹھا لی ہے ہے کہ میں اس کو سواری نہیں دوں گا : اللہ کی قسم ! میں اس کو سواری نہیں دوں گا تین مرتبہ یوں کہا : پھر آپ نے ان سے فرمایا : تم بدلہ لے لو، اس آدمی نے معاف کردیا۔
٢٩٨٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حسن بن صالح قال: قلت لابن أبي ليلى: أقدت من لطمة، قال: نعم، ومن لطمات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن صالح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی لیلی سے پوچھا : کیا آپ طمانچہ کا قصاص لیں گے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں، اور طمانچوں کی صورت میں بھی۔
٢٩٨٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن جابر عن الشعبي عن مسروق أنه أقاد من لطمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق نے طمانچہ مارنے سے قصاص لیا۔