٢٩٦٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لابن شهاب: القسامة في الدم على العلم أم على (البتة) (١)، قال: على (البتة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن شھاب سے دریافت کیا کہ خون میں قسم اٹھانا علم کی بنیاد پر ہوتا ہے یا قطعی طور پر ؟ آپ نے فرمایا : قطعی طور پر۔
٢٩٦٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن عون عن ابن سيرين عن شريح أنه قال في القسامة: أوثمهم وأنا أعلم؟ -يعني استحلفهم: ما قتلنا ولا علمنا قاتلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے قسامت کے بارے میں ارشاد فرمایا : کہ میں انہیں مجرم گردانوں گا حالانکہ میں جانتا ہوں یعنی میں ان سے قسم اٹھواؤں گا کہ نہ ہم نے قتل کیا ہے اور نہ ہمیں قاتل کا علم ہے۔
٢٩٦٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن الحسن بن (عبيد اللَّه) (١) عن إبراهيم قال: يستحلف كل رجل منهم باللَّه: ما قتلت ولا علمت قاتلًا، ثم (يَدِيه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : ان میں سے ہر آدمی سے یوں قسم اٹھوائی جائے گی : اللہ کی قسم میں نے قتل نہیں کیا اور نہ میں قاتل کو جانتا ہوں۔ پھر اس کی دیت ادا ہوگی۔
٢٩٦٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي قال: وجد قتيل باليمين في (وادعة) (١)، فرفع إلى عمر فأحلفهم بخمسين: ما قتلنا ولا علمنا قاتلًا، ثم وداه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : کہ یمن کے علاقہ وادعہ میں ایک شخص مردہ حالت میں پایا گیا پس یہ معاملہ حضرت عمر کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے ان میں سے پچاس آدمیوں سے یوں قسم اٹھوائی ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہمیں قاتل معلوم ہے پھر آپ نے اس مقتول کی دیت ادا کی ۔
٢٩٦٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن هشام عن الحسن قال: يستحلف عن القسامة باللَّه: ما قتلنا ولا علمنا قاتلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : قسامت میں یوں اللہ کی قسم اٹھوائی جائے گی، ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہمیں قاتل معلوم ہے۔
٢٩٦٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن ومحمد أن شريحًا استحلفهم باللَّه: ما قتلنا ولا علمنا قاتلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری اور حضرت محمد بن سیرین یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے ان لوگوں سے یوں قسم اٹھوائی : اللہ کی قسم ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہمیں قاتل کا علم ہے۔