٢٩٢٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن الشعبي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور حضرت حکم یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : سب سے پہلے تنخواہ مقرر کرنے والے حضرت عمر بن خطاب ہیں اور آپ نے مکمل دیت تین سالوں میں مقرر فرمائی : دیت کے دو تہائی حصے دوسالوں میں اور آدھا حصہ دو سالوں میں اور ایک تہائی ایک سال میں اور جو اس سے کم ہو تو وہ اسی سال میں ادا کرنی ہوگی۔
٢٩٢٣١ - وعن الحكم عن إبراهيم قال: أول من فرض العطاء عمر بن الخطاب، وفرض فيه الدية كاملة في ثلاث سنين، (و) (١) (ثلثي) (٢) الدية في سنتين، والنصف في سنتين، والثلث في سنة، وما دون ذلك في عامة (٣).
٢٩٢٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم ⦗١٥٩⦘ قال: الدية في ثلاث سنين، أولها في السنة التي يصاب فيها، و (الثلثان) (١) في سنتين، والثلث في سنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : دیت کی ادائیگی تین سالوں میں ہوگی اس کا پہلا حصہ اس سال میں ادا کرے گا جس میں تکلیف پہنچائی اور دو تہائی حصے دوسالوں میں اور ایک تہائی ایک سال میں۔
٢٩٢٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (يزيد) (١) عن أيوب أبي العلاء عن قتادة وأبي هاشم قالا: الدية في ثلاث سنين، ثلثاها ونصفها في سنتين، والثلث في سنة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب ابوالعلائ فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ اور حضرت ہاشم ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : دیت کی ادائیگی تین سالوں میں ہوگی : دیت کے دو تہائی اور آدھا حصہ دو سالوں میں اور ایک تہائی حصہ ایک سال میں۔
٢٩٢٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (حريث) (١) عن الشعبي قال: الدية في ثلاث سنين، في كل (سنة) (٢) ثلث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حریث فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : دیت کی ادئیگی تین سالوں میں ہوگی اس طرح کہ ہر سال میں ایک تہائی دینا ہوگا۔