٢٨٩٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم (في) (١) العبد يقتل الحر متعمدًا ثم يعفو ولي الدم عن الدم، قال: يرجع إلى مولاه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے غلام کے بارے میں کہ جس نے آزاد آدمی کو جان بوجھ کر قتل کردیا ہو مروی ہے کہ پھر جب اس کے ورثاء قصاص کو معاف کردیں تو وہ غلام اپنے مالک کی طرف لوٹ جائے گا۔
٢٨٩٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ عن أشعث عن الحسن قال: إن عفوا عنه رجع (عبدًا) (١) إلى سيده.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کا ارشاد ہے کہ اگر ورثاء معاف کردیں تو اس کو اس کے آقا کی طرف لوٹادیں گے۔
٢٨٩٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب عن حماد بن سلمة عن (حماد) (١) في عبد قتل حرًا فدفع إلى أوليائه قال: إن عفوا عنه رجع إلى سيده وليس لهم أن يستخدموه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد سے غلام کے بارے میں مروی ہے کہ غلام نے جب آزاد کو جان بوجھ کر قتل کیا پھر اس کو اس کے ورثاء کے سپرد کردیا گیا مگر انہوں نے اس کو معاف کردیا تو یہ غلام اپنے آقا کی طرف لوٹ جائے گا اور ان ورثاء کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس سے خدمت لیں۔