حدیث نمبر: 28419
٢٨٤١٩ - حدثنا وكيع عن شعبة عن غالب العبدي عن رجل من بني تميم عن أبيه عن جده أو جد أبيه قال: قلت: يا رسول اللَّه إن أبي يقرئك السلام، قال: "عليك وعلى أبيك السلام"، قلت: يا رسول اللَّه! إن قومي يريدون أن يعرفوني، قال: "لا بد من عريف والعريف في النار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غالب عبدی فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنو نمیر کے ایک شخص اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تجھ پر اور تیرے والد پر بھی سلام ہو۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میری قوم چاہتی ہے کہ وہ مجھے نگران مقرر کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نگران لازمی ہے۔ اور نگران جہنم میں ہوگا۔
حدیث نمبر: 28420
٢٨٤٢٠ - حدثنا وكيع عن (١) (شعبة) (٢) عن رجل لم يكن (يسميه) (٣) سمع ⦗٥٣٧⦘ أنسًا يقول: ويل للعرفاء والنقباء، ويل للأمناء، ود أحدهم يوم القيامة لو كان معلقًا بالثريا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید کسی آدمی سے نقل کرتے ہیں جس کا انہوں نے نام بیان نہیں کیا۔ اس نے حضرت انس کو یوں فرماتے ہوئے سنا : منتظمین نگرانوں کے لیے ہلاکت ہے اور ان میں کوئی آرزو کرے گا کہ کاش وہ ثریا ستارے سے چمٹ جائے۔
حدیث نمبر: 28421
٢٨٤٢١ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن عبد اللَّه بن شقيق عن حبيب بن (حيدة) (١) قال: لأن (أقطع) (٢) أحب إلي (من) (٣) أن (أكون) (٤) عريفًا على عشرةٍ سنةً.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت حبیب بن حیدہ نے ارشاد فرمایا : مجھے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے یہ زیادہ پسندیدہ ہے اس سے کہ مجھے دس آدمیوں پر ایک سال کے لیے نگران مقرر کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 28422
٢٨٤٢٢ - حدثنا ابن نمير عن عثمان بن حكيم قال: أخبرني عبد اللَّه بن عثمان رجل (من) (١) بني سلول أنه دعاه قومه ليعرفوه، واختاروه لذلك، فأبى وامتنع، فذهب إلى عبد اللَّه بن عمرو فشاوره واستأمره فقال: لا تعرَفنَّ عليهم، (فجاؤوه) (٢) (بالغدوة) (٣) فلم يزالوا حتى ألزموها إياه، فذهب إلى عبد اللَّه بن عمرو فأخبره أنه قد أُكره فقال: أولها شفعة وأوسطها خيانة وآخرها عذاب النار (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن حکیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عثمان جو قبیلہ بنو سلول کے آدمی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میری قوم نے مجھے بلایا تاکہ وہ مجھے نگران مقرر کریں اور اس عہدے کے لیے منتخب کریں۔ آپ نے انکار کردیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ آپ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پا س گئے آپ نے ان سے مشورہ کیا اور ان کی رائے مانگی۔ انہوں نے فرمایا : تم ہرگز ان پر نگران مت بننا، وہ لوگ اگلی صبح پھر آپ کے پاس آگئے اور مسلسل اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو اس کے لیے مقرر کردیا۔ آپ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں بتلایا کہ مجھے مجبور کردیا گیا۔ اس پر انہوں نے فرمایا : اس کی ابتدا تو سفارش ہے اور اس کا درمیان خیانت ہے اور ا س کی انتہاء جہنم کا عذاب ہے۔
حدیث نمبر: 28423
٢٨٤٢٣ - حدثنا ابن علية عن غالب قال: إنا لجلوس إذ (دخل رجل) (١) فقال: حدثني أبي عن جدي أن النبي ﷺ قال: "من ابتدأ قومًا بسلام فضلهم بعشر ⦗٥٣٨⦘ حسنات"، وقال: بعثني أبي إلى رسول اللَّه ﷺ وقال: ائته فأقرئه السلام وقل له: هو يطلب إليك أن تجعل له العرافة من بعده قال: "العرافة حق، العرافة حق، ولا بد من عرفاء، ولكن العريف بمنزلة قبيحة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غالب فرماتے ہیں کہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی داخل ہوا اور کہا کہ میرے دادا فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص لوگوں سے سلام میں پہل کرے تو وہ ان سے دس نیکیوں میں بڑھ جائے گا۔ راوی کہتے ہیں : میرے والد نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س بھیجا اور فرمایا : کہ جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنے بعد نگران مقرر فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نگرانی و انتظام برحق ہے۔ نگرانی و انتظام برحق ہے۔ نگران بنانا ضروری ہے، لیکن نگران برے مرتبہ میں ہوگا۔
حدیث نمبر: 28424
٢٨٤٢٤ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا (قرة عن) (١) حميد بن هلال قال: قال أبو السوار: واللَّه لوددت أن حدقتي في حجري مكان العرافة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ھلال فرماتے ہیں کہ حضرت ابو السوار نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! میں پسند کرتا ہوں کہ میری آنکھ کی سیاہی ، میری آنکھ کے حلقہ میں پھیل جائے نگران بننے کے بجائے۔
حدیث نمبر: 28425
٢٨٤٢٥ - حدثنا الفضل قال: حدثنا سلام بن مسكين عن محمد بن واسع عن (المهري) (١) عن أبي هريرة قال: قال لي: يا (مهري) (٢) لا تكن جابيًا ولا عريفًا ولا شرطيًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مہری فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے مجھے ارشاد فرمایا : اے مہری ! تم مت بنو خراج وصول کرنے والا ، نہ ہی نگران اور نہ ہی سپاہی۔