کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو اس شخص سے صلہ رحمی کرے جس سے اس کا والد صلہ رحمی کرتا ہے
٢٨٠٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن (عمرو) (١) بن علقمة عن ابن أبي حسين قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تقطع من كان يصل أباك، يطفي بذلك نورك إن ودك ود أبيك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی حسین فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قطع رحمی مت کرو اس سے جس سے تمہارے والد صلہ رحمی کرتے تھے، اس سے تمہارا نور بجھ جائے گا اس لیے کہ تمہارا تعلق دار تمہارے والد کا تعلق دار ہے۔
٢٨٠٥١ - حدثنا ابن إدريس عن هارون بن (عنترة) (١) عن عون بن عبد اللَّه قال: قال عبد اللَّه: صل من كان أبوك يواصل، فإن صلة (الميت) (٢) في قبره أن تصل من كان يواصل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ اس کے ساتھ صلح رحمی کرو جس کے ساتھ تمہارے والد صلہ رحمی کرتے تھے اس لیے کہ قبر میں موجود میت سے صلح رحمی یہی ہے کہ تم اس شخص سے صلہ رحمی کرو جس سے یہ صلہ رحمی کرتا تھا۔
٢٨٠٥٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن بلال عن أبيه قال: من صلة الرجل أباه أن يصل إخوانه الذين كان يصلهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بلال فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت ابو بردہ نے ارشاد فرمایا : کہ بیشک آدمی کی اپنے والد سے صلہ رحمی یہ ہے کہ وہ اس کے بھائیوں سے صلہ رحمی کرے جن سے وہ خود صلہ رحمی کرتا تھا۔ حضرت حماد فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ یہ حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے اور حضرت حماد سے پوچھا گیا کہ کیا بلال بن ابو بردہ مراد ہیں۔ آپ نے فرمایا : جی ہاں۔
٢٨٠٥٤ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: مكتوب في التوراة (أحبب) (١) حبيبك وحبيب أبيك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : کہ تو رات میں یوں لکھا ہے کہ تم اپنے محبوب اور اپنے والد کے محبوب سے محبت کرو۔