کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کو حیَّاک اللہ کہے اور جنہوں نے اس کو مکروہ سمجھا یہاں تک کہ وہ سلام کر لے
٢٧٤٢٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم عن ابن سيرين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم اور حضرت حماد دونوں حضرات بالترتیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین اور ابراہیم ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : جب تو یوں کہے حیَّاک اللہ۔ اللہ تجھے زندہ رکھے۔ تو تم اس کے ساتھ سلام بھی کرو۔
٢٧٤٣٢ - حدثنا معتمر بن سليمان عن (عبد المجيد) (١) قال: كان (الحسن) (٢) يكره أن يقول الرجل: (حياك اللَّه) (٣) إلا أن يقول بالسلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الحمید فرماتے ہیں کہ حسن بصری یوں کہنے کو مکروہ سمجھتے تھے : حَیَّاک اللَّہُ ۔ مگر یہ کہ وہ سلام بھی کہے۔
٢٧٤٣٣ - حدثنا حسين بن علي (عن) (١) عيينة عن محمد بن سوقة قال: جاءنا ميمون بن مهران فقال له رجل: حياك اللَّه، فقال: لا تقل هكذا، هذه تحية (الشباب) (٢) ولكن قل: (حياكم) (٣) اللَّه (بالسلام) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سوقہ فرماتے ہیں حضرت میمون بن مہران ہمارے پاس تشریف لائے تو ایک آدمی نے ان سے یوں کہا : حَیَّاک اللَّہُ ۔ اللہ آپ کو زندہ رکھے۔ آپ نے فرمایا : ایسے مت کہو۔ یہ تو نوجوانوں کا سلام ہے۔ لیکن یوں کہو۔ حَیَّاکُمَ اللَّہُ بِالسَّلاَمِ ۔
٢٧٤٣٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون إذا قال الرجل للرجل: حياك اللَّه، أن يقول: بالسلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : صحابہ پسند کرتے تھے کہ جب ایک آدمی کسی آدمی کو یوں کہے، حَیَّاک اللَّہُ ۔ تو وہ سلام بھی ساتھ کہے۔