کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان تین کا بیان جن میں سے دو سرگوشی کریں تیسرے کو چھوڑ کر
حدیث نمبر: 27215
٢٧٢١٥ - حدثنا محمد بن بشر وعبد اللَّه بن نمير قالا: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا كان ثلاثة فلا يتسار اثنان دون الآخر"، وقال ابن نمير: يتناجى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تین افراد ہوں تو ان میں دو تیسرے کے علاوہ سرگوشی ہرگز مت کریں اور حضرت ابن نمیر نے یتناج کا لفظ نقل فرمایا بمعنی سرگوشی کرنا۔
حدیث نمبر: 27216
٢٧٢١٦ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن أبي وائل عن عبد اللَّه قال: (نهى) (١) رسول اللَّه ﷺ إذا (كان) (٢) ثلاثة (أن) (٣) يتناجى اثنان دون واحد، أجلَ أن يحزنه حتى يختلط بالناس (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ جب تین افراد ہوں تو ان میں سے دو تیسرے کے علاوہ سرگوشی نہ کریں اس وجہ سے وہ اس کو غمگین کریں گے یہاں تک کہ وہ لوگوں میں مل جائے۔
حدیث نمبر: 27217
٢٧٢١٧ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن (١) الأحوص قال: قال عبد اللَّه: إذا كان (ثلاثة) (٢) نفر (٣) (ينتجى) (٤) اثنان دون واحد فإن ذلك يسؤه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا جب تین افراد کا گروہ ہو تو دو شخص تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، پس بیشک یہ بات اس کو تکلیف میں مبتلا کر دے گی۔
حدیث نمبر: 27218
٢٧٢١٨ - حدثنا عبدة بن سليمان عن عبيد اللَّه (عن) (١) سعيد (بن) (٢) أبي سعيد قال: رأيت ابن عمر وهو يناجي رجلًا، فأدخلت رأسي بينهما فضرب ابن عمر صدري وقال: إذا رأيت اثنين يتناجيان فلا تدخل بينهما إلا بإذنهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابی سعید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ کسی آدمی سے سرگوشی کر رہے تھے میں نے بھی اپنا سر ان دونوں کے درمیان داخل کردیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے میرے سینہ پر مارا اور فرمایا : جب تم دو آدمیوں کو سرگوشی کرتے ہوئے دیکھو تو ان دونوں کے درمیان مت گھسو مگر ان کی اجازت سے۔
حدیث نمبر: 27219
٢٧٢١٩ - حدثنا أبو معاوية (عن) (١) الأعمش عن أبي صالح عن ابن عمر ⦗٢٠١⦘ قال: إذا كان القوم أربعة فلا بأس (أن يتناجى) (٢) اثنان دون صاحبيهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : جب چار افراد ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے کہ دو افراد اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر سرگوشی کریں۔