کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: آدمی کو مسجد میں اسلحہ ظاہر کرنے اور سونتی ہوئی تلوار کے لینے سے روکا گیا
٢٧٢٢٠ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو سمع جابرا يقول: (مر) (١) رجل في المسجد بسهام فمال له رسول اللَّه ﷺ: "أمسك بنصالها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں تیر لے کر گزرا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : اس کے پھل کو اپنے سے چمٹا لو۔
٢٧٢٢١ - حدثنا وكيع عن (بريد) و (١) بن عبد اللَّه عن أبي بردة عن أبيه قال: إذا مر أحدكم في المسجد (بنبل) (٢) فليمسك بنصالها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے ارشاد فرمایا : جب تم میں کوئی مسجد میں تیر لے کر گزرے تو اس کو چاہیے کہ اس کے پھل کو اپنے سے چمٹا لے۔
٢٧٢٢٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) عاصم عن الحسن أن رسول اللَّه ﷺ رأى قوما يتعاطون سيفا مشهورا فقال: "لعن اللَّه هولاء"، فقلت (للحسن) (٢): إنه كان في المسجد، (فقال) (٣): لا، بل في رحبة من ⦗٢٠٢⦘ رحاب المسجد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند لوگوں کو دیکھا کہ وہ سونتی ہوئی تلوار لے رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان پر اللہ لعنت کرے۔ راوی کہتے ہیں ! میں نے حسن سے پوچھا : کیا وہ مسجد میں تھے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ، بلکہ مسجد کے صحنوں میں سے ایک صحن میں تھے۔
٢٧٢٢٣ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث عن مجاهد قال: ملعون من ناول أخاه السيف مسلولا في المسجد] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : ملعون ہے وہ شخص جو مسجد میں اپنے بھائی کو سونتی ہوئی تلوار پکڑائے۔
٢٧٢٢٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (أسلم) (١) المنقري عن (عبد اللَّه) (٢) بن (عبد الرحمن) (٣) بن أبزى أنه كره سل السيف في المسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم المنقری فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابزی مسجد میں تلوار سونت لینے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
٢٧٢٢٥ - حدثنا سفيان بن عيينة عن محمد بن المنكدر عن الحسن قال: سمعته يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "من ناول أخاه السيف فليغمده" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو اپنے بھائی سے تلوار پکڑے تو اس کو چاہیے کہ وہ تلوار نیام میں کرلے۔
٢٧٢٢٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا حماد بن سلمة عن أبي الزبير عن (جابر) (١) قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن يتعاطى السيف مسلولًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونتی ہوئی تلوار لینے سے منع فرمایا۔
٢٧٢٢٧ - حدثنا ابن علية عن علي بن زيد بن جدعان عن الحسن قال: نهى النبي ﷺ أن يتعاطى السيف مسلولًا، ومر بقوم يتعاطون سيفًا مسلولًا فقال: "ألم أنهكم (عن) (١) هذا، لعن اللَّه من فعل هذا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونتی ہوئی تلوار لینے سے منع فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے پاس سے گزرے جو سونتی ہوئی تلوار لے رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں ایسا کرنے سے منع نہیں کیا تھا ؟ اللہ لعنت کرے اس شخص پر جو یہ کرے۔