٢٦٨١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن عروة (بن) (١) عبد اللَّه بن (قُشير) (٢) قال: سمعت أبا جعفر يقول: كان قائم سيف عمر فضة، فقلت: أمير المؤمنين؟ قال: أمير المؤمنين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن عبد اللہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر کو کہتے سُنا۔ حضرت عمر کی تلوار کا قبضہ چاندی کا تھا۔ (راوی کہتے ہیں) ۔ میں نے پوچھا… امیر الموٌمنین کی ؟ انہوں نے کہا۔ امیر المؤمنین کی۔
٢٦٨١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام الدستوائي عن قتادة عن سعيد بن أبي الحسن قال: (كان) (١) قبيعة [رسول اللَّه ﷺ من فضة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابی الحسن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار کا قبضہ چاندی کا تھا۔
٢٦٨١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة قال: كان] (١) سيف الزبير (محلى) (٢) بالفضة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن زبیر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت زبیر کی تلوار پر چاندی کا زیور چڑھا ہوا تھا۔
٢٦٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا عثمان بن حكيم قال: رأيت (في) (١) قائم سيف سهل بن حنيف مسمار ذهب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن حکیم بیان کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سہل بن حنیف کی تلوار میں سونے کا کیل دیکھا۔
٢٦٨١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) (ابن) (٢) (مغول) (٣) عن نافع قال: كان سيف عمر محلى، فقلت له: عمر حلاه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کی تلوار مُحلّٰی تھی۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے نافع سے کہا۔ حضرت عمر نے اس کو مزین کیا تھا۔ نافع کہنے لگے ۔ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو وہ تلوار لٹکائے دیکھا۔
٢٦٨١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) أبو (العميس) (٢) عن القاسم قال: كان سيف عبد اللَّه محلى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کی تلوار مزین کی ہوئی تھی۔
٢٦٨١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو نعيم عن قرة بن خالد عن أبي وحشية الصيقل قال: دعاني مصعب فأخرج إلي سيفين فقال: أي هذين خير؟ فقلت: هذا، وعلى قائمه (حبة) (١) من فضة، فقال الناس: هذا سيف أبي (بكر) (٢) الصديق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وحشیہ صیقل سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت مصعب نے مجھے بلایا اور پھر انہوں نے مجھے دو تلواریں نکال کردکھائیں ۔ اور پوچھا… ان دونوں میں سے کون سی بہتر ہے ؟ میں نے کہا…یہ … اور اس کے قبضہ پر چاندی کے ذرات تھے۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابوبکر صدیق کی تلوار ہے۔
٢٦٨٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن أبي (بكر بن) (١) عبد اللَّه قال: رأيت على مكحول سيفًا محلى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عبد اللہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مکحول پر محلی تلوار دیکھی۔
٢٦٨٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا شريك عن أبي إسحاق قال: كان (سيف مسروق) (١) محلى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحق سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسروق کی تلوار محلّٰی تھی۔
٢٦٨٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن عامر قال: أخرج إلينا علي بن الحسين سيف رسول اللَّه ﷺ فإذا قبيعته والحلقتان ⦗٨٠⦘ اللتان (فيهما) (١) الحمائل فضة، قال: فسألته فإذا هو قد نُحل (٢)، كان سيف منبه بن الحجاج السهمي اتخذه النبي ﷺ لنفسه يوم بدر، قال: وأخرج إلينا درعه فإذا هي يمانية رقيقة ذات (زُرافين) (٣) فإذا علقت بزرافينها (شمرت) (٤)، وإذا أرسلت مست الأرض (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن الحسین نے ہمیں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار نکال کر دکھائی تو اس میں ایک قبضہ اور دو کڑے تھے جن میں چاندی کی حمائل تھی۔ راوی کہتے ہیں ۔ میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا ۔ تو وہ ہدیہ کی ہوئی معلوم ہوئی۔ یہ منبہ بن حجاج سہمی کی تلوار تھی۔ جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن اپنے لیے لیا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر انہوں نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زرہ دکھائی وہ دو کڑیوں والی باریک یمنی زرہ تھی۔
٢٦٨٢٣ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: (حدثنا) (٢) أبو (نعيم) (٣) عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر قال: لا بأس أن يحلى السيف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تلوار کو مزین کیا جائے۔