٢٥٦٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو أسامة عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر أن النبي ﷺ قال: "من شرب الخمر في الدنيا لم يشربها في الآخرة إلا أن يتوب" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص نے دنیا میں شراب پی تو وہ آخرت میں شراب نہیں پئے گا الَّا یہ کہ وہ تائب ہوجائے۔ “
٢٥٦٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد عن مجاهد عن عبد اللَّه ابن عمرو قال: قال النبي ﷺ: "من شرب الخمر فجعلها في (بطنه) (١) لم (تقبل) (٢) له صلاة سبعا، إن مات (فيها) (٣) مات كافرا، فإن أذهبت عقله عن شيء من الفرائض لم تقبل له صلاة أربعين يومًا، فإن مات (فيها) (٤) مات كافرا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص نے شراب نوشی کی اور اس شراب کو پیٹ میں داخل کیا تو اس شخص کی سات دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ اگر یہ شخص ان دنوں میں مرجائے تو کافر مرے گا اور اگر شراب نے اس کے دماغ کو فرائض میں سے کسی فریضہ کے بارے میں بےعقل کردیا تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوگی اور اگر یہ شخص ان دنوں میں مرجائے تو یہ کافر مرے گا۔ “
٢٥٦٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن حسان ابن أبي (وجزة) (١) عن أبيه عن عبد اللَّه بن عمرو قال: لأن أزني أحب إلي من أن أشرب خمرا إني إذا شربت الخمر تركت الصلاة، ومن ترك الصلاة فلا دين (له) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے شراب پینے سے زیادہ یہ بات محبوب ہے کہ میں زنا کرلوں کیونکہ جب میں شراب نوشی کروں گا تو (لازماً ) میں نماز کو ترک کروں گا اور جو شخص تارک نماز ہو اس کا کوئی دین نہیں ہے۔
٢٥٦٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن العوام بن حوشب عن المسيب بن رافع عن عبد اللَّه بن عمرو قال: معاقر الخمر كعابد اللات والعزى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ شراب کا عادی ایسا ہے، جیسا لات اور عُزّٰی کا پجاری ہوتا ہے۔
٢٥٦٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) محمد بن فضيل عن وائل (٢) (أبي) (٣) بكر (٤) عن أبي (بردة) (٥) عن أبي موسى أنه كان يقول: (ما أبالي) (٦) أشربت الخمر (أم) (٧) عبدت هذه (السارية) (٨) من دون اللَّه (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ ، جناب ابو موسیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ میں شراب پیوں یا اللہ کے سوا اس ستون کی عبادت کروں (یعنی دونوں چیزیں شدید گناہ ہیں) ۔
٢٥٦٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (ابن) (١) مبارك عن الأوزاعي عن (سليمان) (٢) (بن) (٣) حبيب أن ابن عمر قال: لو أدخلت إصبعي في خمر ما أحببت أن ترجع إلي (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن حبیب سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : اگر میں اپنی انگلی کو شراب میں داخل کروں تو مجھے یہ بات محبوب نہیں ہے کہ وہ میری طرف (صحیح سلامت) لوٹے۔
٢٥٦٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) ابن مبارك عن الأوزاعي عن عروة بن رويم قال: قال: رسول اللَّه ﷺ: "أول ما نهاني ربي عن شرب الخمر وعبادة الأوثان، (وملاحاة) (٢) الرجال" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن رویم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے پروردگار نے مجھے سب سے پہلے جس چیز سے منع کیا وہ شراب کا پینا، بتوں کی عبادت کرنا اور لڑائی جھگڑا ہے۔
٢٥٦٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن (أبي) (١) عون عن ابن شداد قال: قال ابن عباس: حرمت الخمر (بعينها) (٢) قليلها وكثيرها، والسكر من كل شراب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن شداد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : شراب کو بعینہٖ حرام قرار دیا گیا ہے۔ تھوڑی شراب بھی حرام ہے اور زیادہ شراب بھی حرام ہے اور ہر مشروب میں سے حد سکر (نشہ) حرام ہے۔
٢٥٦٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبيه أنه سمع عثمان يخطب، فذكر الخمر فقال: هي مجمع الخبائث أو (هي) (١) أم ⦗٣١٥⦘ الخبائث، ثم أنشأ يحدث عن بني إسرائيل فقال: إن رجلًا خير بين أن يقتل صبيًا أو يمحو كتابًا، أو يشرب خمرًا، فاختار الخمر فما برح حتى فعلهن كلهن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابراہیم، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عثمان کو خطبہ دیتے ہوئے سُنا۔ چناچہ حضرت عثمان نے خمر کا ذکر کیا تو فرمایا، یہ بہت سی خباثتوں کو جمع کرنے والی ہے یا فرمایا یہ ام الخبائث ہے۔ پھر آپ نے بنی اسرائیل کے بارے میں واقعہ بیان کیا ۔ فرمایا : ایک شخص کو ایک بچہ قتل کرنے ، کتاب کو ضائع کرنے اور شراب پینے کے بارے میں اختیار دیا گیا تو اس نے شراب نوشی کو پسند کیا لیکن پھر وہ شخص یہ تمام کام کر بیٹھا۔
٢٥٦٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معتمر) (١) بن سليمان عن ليث عن طلحة عن مسروق قال: شارب الخمر كعابد الوثن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ شراب نوشی کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ بُت کی عبادت کرنے والا۔
٢٥٦٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن سليمان الأصبهاني عن (سهيل) (١) عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "مدمن الخمر كعابد الوثن" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عادی شراب نوش ایسا ہے جیسا کہ بُت کا پجاری۔ “
٢٥٦٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عباد (بن) (١) عبد اللَّه بن الزبير عن أبيه قال: كنا عند عائشة، فمر (جلبةٌ) (٢) على بابها، فسمعت الصوت فقال: ما هذا؟ فقالوا: رجل ضرب في الخمر، قالت: سبحان اللَّه! سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن، ولا يشرب الخمر حين (يشرب) (٣) وهو مؤمن، (ولا يسرق حين يسرق وهو ⦗٣١٦⦘ مؤمن) (٤) " فإياكم إياكم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عباد بن عبد اللہ بن زبیر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : کہ ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے کہ اس دوران ان کے دروازہ کے پاس سے تو انہوں نے اس کی آواز سُنی تو پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا، ایک شخص کو شراب نوشی کی سزا میں مارا جا رہا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں، سبحان اللہ ! میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سُنا ” زنا کرنے والا شخص جب زنا کرتا ہے تو وہ ایمان کی حالت میں زناء نہیں کرتا، شراب پینے والا شخص جب شراب نوشی کرتا ہے تو وہ ایمان کی حالت میں شراب نوشی نہیں کرتا، چوری کرنے والا شخص جب چوری کرتا ہے تو وہ ایمان کی حالت میں چوری نہیں کرتا۔ “ پس تم بچو ، پس تم بچو۔
٢٥٦٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يزني الزاني (حين يزني) (١) وهو مؤمن، ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن، ولا يشرب الخمر حين يشرب وهو مؤمن، ولا ينتهب نهبة يرفع الناس (٢) أبصارهم وهو مؤمن" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زنا کرنے والا شخص جب زنا کرتا ہے تو وہ ایمان کی حالت میں زنا نہیں کرتا اور چوری کرنے والا شخص جب چوری کرتا ہے تو وہ ایمان کی حالت میں چوری نہیں کرتا اور شراب نوشی کرنے والا شخص جب شراب نوشی کرتا ہے تو وہ ایمان کی حالت میں شراب نوشی نہیں کرتا۔ مال کو اچکنے والا جس کے اچکنے کو لوگ آنکھیں اٹھا کر دیکھتے ہوں۔ ایمان کی حالت میں مال کو نہیں اچکتا۔
٢٥٦٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ليث عن مدرك عن ابن أبي أوفى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يشرب الخمر حين (يشربها) (١) وهو مؤمن" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی اوفی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شراب پینے والا شخص، جب شراب پیتا ہے وہ ایمان کی حالت میں نہیں ہوتا۔ “
٢٥٦٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر [كان ينهى أن (تسقى) (١) البهائم الخمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ اس بات سے منع کیا کرتے تھے کہ جانوروں کو شراب پلائی جائے۔
٢٥٦٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: أخبونا عبدة بن سليمان عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر] (١): أنه بلغه أن نساء (يمتشطن) (٢) بالخمر، فقال: ألقى اللَّه في رؤوسهن (الحاصة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہیں (ابن عمر رضی اللہ عنہما کو) یہ بات معلوم ہوئی کہ کچھ عورتیں شراب کے ساتھ کنگھی کرتی ہیں۔ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ان کے سروں میں حاصہ (بال اڑا دینے والی بیماری) ڈال دے۔
٢٥٦٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن مجالد عن أبي السفر عن امرأته أن عائشة سئلت عن المرأة (تمتشط) (١) بالعسلة فيها الخمر، فنهت عن ذلك أشد النهي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو السفر، اپنی بیوی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جو شہد کے ایسے بستہ ٹکڑے کے ذریعہ کنگھی کرے جس میں شراب ڈالی گئی ہو ؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے شدید طور پر ممانعت فرما دی۔
٢٥٦٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم عن حذيفة قال: تمتشط بالخمر؟ لا طيبها اللَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں جو عورت خمر کے ساتھ کنگھی کرتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ اس کو طیب نہیں کرتا۔
٢٥٦٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا خلف بن خليفة عن أبي هاشم عن نافع قال: كانت لابن عمر (بختية) (١) وأنها مرضت، فوصف لي أن أداويها بالخمر، فداويتها فقلت لابن عمر إنهم (وصفوا) (٢) لي أن أدوايها بالخمر، قال: ففعلت؟ قلت: لا، وقد كنت فعلت، (قال) (٣): أما إنك لو فعلت لعاقبتك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک بختی اونٹنی تھی اور وہ بیمار ہوگئی۔ پس مجھے یہ کہا گیا کہ میں اس کا شراب کے ذریعہ سے علاج کروں۔ پس میں نے اس کا علاج کرلیا پھر میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا، لوگوں نے مجھے اس کے بارے مں م کہا تھا کہ میں اس کا خمر کے ذریعہ سے علاج کروں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا۔ پھر تم نے یہ کیا ؟ میں نے جواب دیا : نہیں، جبکہ میں نے یہ کام کیا تھا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا ۔ اگر تم یہ کام کرلیتے تو میں تمہیں سزا دیتا ۔
٢٥٦٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد عن مجاهد عن عبد اللَّه بن عمرو قال: لا يدخل الجنة مدمن (الخمر) (١) (ولا عاق) (٢) ولا منان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں جنت میں شراب کا رسیا داخل نہ ہوگا اور نہ والدین کا نافرمان داخل ہوگا اور نہ ہی احسان جتلانے والا داخل ہوگا۔
٢٥٦٤٩ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن سالم (بن) (١) أبي الجعد ومجاهد عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يدخل الجنة عاق ولا مدمن (خمر) (٢) ولا منان"] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں داخل نہ ہوگا والدین کا نافرمان ، شراب کا رساک، اور احسان جتلانے والا۔ “
٢٥٦٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (يحيى) (١) بن إسحاق قال: أخبرنا يحيى بن أيوب عن عبيد اللَّه بن (زحر) (٢) عن بكر بن سوادة عن قيس بن سعد (بن) (٣) عبادة ⦗٣١٩⦘ أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إن ربي حرم عليَّ الخمر والكوبة والقنين" -يعني العود- ثم قال: "إياكم و (الغبيراء) (٤) (فإنها (٥) خمر العالم) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن عبادہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یقینا میرے پروردگار نے مجھ پر شراب ، نرد اور قنین یعنی سارنگی کو حرام قرار دیا ہے۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خبردار تم مکئی کی شراب سے بچو، کیونکہ یہ پورے جہاں کی خمر ہے۔ “
٢٥٦٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا عبد العزيز قال: حدثني نافع محن ابن عمر قال: نزل تحريم الخمر وإن بالمدينة خمسة (أشربة) (١) (كلها) (٢) يدعونها الخمر ما فيها خمر العنب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ خمر کی حرمت کا حکم نازل ہوا اور مدینہ میں (تب) پانچ مشروبات تھے جن سب کو خمر کہا جاتا تھا، ان میں انگور کی خمر داخل نہیں تھی۔
٢٥٦٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن أبي إسحاق الشيباني عن عبد اللَّه بن شداد قال: لما أسري بالنبي ﷺ أوتي بدابة حتى أتى بيت المقدس، فأتي بإنائين في واحد خمر، وفي (الآخر) (١) لبن، فأخذ اللبن فقال له جبرائيل: هديت وهديت أمتك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج پر لے جایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک سواری لائی گئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو برتن لائے گئے۔ ایک برتن میں شراب تھی اور دوسرے برتن میں دودھ تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ لے لیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا۔ ” آپ کی راہنمائی کی گئی ہے اور آپ کی امت کی بھی راہ نمائی کی گئی ہے۔ “
٢٥٦٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن وائل بن داود التيمي عن إبراهيم قال: قال الأشعري: لأن أصلي (لسارية) (١) أحب إلي من أن ⦗٣٢٠⦘ أشرب الخمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت اشعری نے فرمایا : میں اس ستون کے لئے نماز پڑھوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں شراب نوشی کروں۔
٢٥٦٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن أبي الأشهب عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما يسرني أني شربت إناء من خمر وأني تصدقت بمثله ذهبًا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ میں شراب کا ایک برتن پیوں اور اس کے مثل سونا صدقہ کروں۔ “
٢٥٦٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ليث عن قيس عن مكحول قال: أوصى رسول اللَّه ﷺ بعض أهلي (ألا) (١) يشرب الخمر، فإن شربها مفتاح كل شر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعض اہل خانہ کو اس بات کی وصیت فرمائی تھی کہ وہ شراب نوشی نہ کریں کیونکہ شراب نوشی ہر شر کی کنجی ہے۔
٢٥٦٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن أبي (حيان) (١) قال: أخبرني أبو الفرات عن أبي داود قال: كنت عند منبر حذيفة (وهو) (٢) بالمدائن، فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: أما بعد، فإن بائع الخمر وشاربها (٣) سواء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو داؤد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس منبر کے قریب موجود تھا جبکہ وہ مقام مدائن میں تھے، پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر ارشاد فرمایا : اما بعد : بلاشبہ شراب بیچنے والا اور شراب نوشی کرنے والا دونوں گناہ میں برابر ہیں۔
٢٥٦٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة قال: حدثنا شعبة عن (زبيد) (١) عن خيثمة أنه سمعه يقول: كنت قاعدًا عند عبد اللَّه بن عمرو، فذكر الكبائر حتى ذكر الخمر، فكان رجلًا تهاون بها، فقال عبد اللَّه بن عمرو: ولا شربها رجل مصبحًا إلا ⦗٣٢١⦘ ظل مشركًا حتى يمسي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبید، حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت زبید نے حضرت خیثمہ کو کہتے سُنا۔ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا، پس کبیرہ گناہوں کا ذکر ہوا تو شراب کا بھی ذکر آیا۔ اس پر ایک آدمی نے شراب کو ہلکا گناہ سمجھا، تو حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کوئی آدمی بھی شراب کو صبح کے وقت نہیں پیتا مگر یہ کہ وہ رات مشرک ہونے کی حالت میں کرتا ہے۔
٢٥٦٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن يحيى بن سعيد عن النعمان بن أبي عياش قال: (أرسلنا) (١) إلى (عبد اللَّه) (٢) بن (عمرو) (٣) (نسأله) (٤) عن أي الكبائر أكبر؟ فقال: الخمر، (فأعدنا) (٥) إليه الرسول فقال: الخمر، إنه من شربها لم تقبل له صلاة سبعًا، فإن سكر لم تقبل له صلاة أربعين يومًا، (فإن مات فيها مات) (٦) ميتة جاهلية (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن ابی عیاش سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی طرف ایک قاصد اس غرض سے بھیجا کہ ہم نے آپ سے یہ سوال کیا کہ کبیرہ گناہوں میں سے کون سا گناہ زیادہ بڑا ہے ؟ انہوں نے جواب ارشاد فرمایا : شراب۔ ہم نے پھر دوبارہ ان کی طرف قاصد بھیجا تو انہوں نے پھر فرمایا : شراب۔ کیونکہ جو شخص شراب نوشی کرتا ہے تو اس کی سات دن تک نماز قبول نہیں کی جاتی اور اگر اس کو شراب سے نشہ بھی ہوجائے تو پھر اس کی چالیس دن تک کی نماز قبول نہیں ہوتی اور اگر اس دوران وہ مرجائے تو جاہلیت کی موت مرے گا۔
٢٥٦٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سعيد بن عبد العزيز عن ربيعة (بن) (٢) يزيد (عن) (٣) (ابن) (٤) الديلمي قال: سألت عبد اللَّه بن عمرو عن شارب الخمر فقال: (لا) (٥) تقبل له صلاة أربعين يومًا (و) (٦) أربعين ليلة (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن الدیلمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے شراب نوشی کرنے والے کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : اس آدمی کی نماز چالیس دن تک یا چالیس رات تک قبول نہیں ہوتی۔
٢٥٦٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون (عن) (١) هشام عن الحسن في (الحب) (٢) تقع فيه القطرة من الخمر أو الدم، قال: يهراق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام، حسن کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایسے برتن کے بارے میں جس میں خون یا شراب کا ایک قطرہ گرجائے ار شاد فرمایا، اس برتن کو گرا دیا جائے گا۔