٢٥٢٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن (ابن) (١) خثيم عن عطاء في المرأة تنكسر، قال: لا بأس أن يجبّرها الرجل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے اس عورت کے بارے میں جس کی ہڈی ٹوٹ جائے، مروی ہے، کہتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی اس کی ہڈی جوڑے۔
٢٥٢٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عبد اللَّه بن الوليد المزني عن امرأة من أهله عن عبد اللَّه بن (معقل) (١) أنه قال في امرأة بها جرح: يجعل (نطع) (٢) ثم (يقوره) (٣) ثم يداويها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مغفل کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے اس عورت کے بارے میں جس کو زخم لگا ہوا ہو۔ فرمایا : ایک چمڑا لے کر اس کو سوراخ کرلیا جائے اور پھر آدمی اس عورت کا علاج کرے۔
٢٥٢٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن همام عن قتادة قال: قلت لجابر ابن زيد: المرأة ينكسر منها الفخذ أو الذراع، أجبره؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید سے پوچھا کہ ایک عورت کی ران یا کہنی ٹوٹ جاتی ہے تو کیا میں اس کو جوڑ سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں۔
٢٥٢٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن غراب عن زمعة عن سلمة بن وهرام قال: سألت طاووسًا عن المرأة يكون بها الجرح: كيف يداويها الطبيب؟ قال: (يجيب) (١) موضع الجرح من الثوب، ثم يداويها الطبيب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن وہرام سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس سے زخمی عورت کے بارے میں سوال کیا کہ طبیب اس کا علاج کیسے کرے گا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ زخم کے مقام پر کپڑے کو شگاف دے دے اور پھر عورت کا علاج کرے۔
٢٥٢٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن ابن أبحر عن الشعبي سئل عن المرأة يكون بها الجرح، (قال) (١): يخرق موضعه ثم يداويها الرجل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ ان سے زخمی عورت کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ انہوں نے فرمایا : زخم کے مقام پر (کپڑے کو) شگاف دے کر مرد طبیب اس کا علاج کرے گا۔
٢٥٢٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن جابر عن عامر في المرأة تنكسر، قال: لا بأس أن يجبرها الرجل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے ایسی عورت کے بارے میں جس کی ہڈی ٹوٹ جائے روایت ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس کو مرد پٹی کرے۔
٢٥٢٨٥ - (١) حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين بن علي قال: سمعت ابن أبجر يقول: دع عشاء (الليل) (٢) إلا أن (تكون) (٣) صائمًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں ابن ابحر کو کہتے سُنا کہ تم رات کو کھانا چھوڑ دو الا یہ کہ تم دن کو روزے سے ہو۔