کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص کرایہ پر لے کر اُس سے زیادہ کرایہ پرآگے دے دے تو اُس کا حکم
٢٤٨٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن عمر بن عامر عن قتادة عن نافع عن ابن عمر في رجل استأجر أجيرا (فآجره) (١) بأكثر مما استأجره، (قال) (٢): الفضل (للأول) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو مزدور کرایہ پر لے کر اس سے زیادہ کرایہ پر آگے دے دے تو زیادتی پہلے کو ملے گی۔
٢٤٨٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (شعبة) (١) عن قتادة عن ابن عمر أنه (كرهه) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس کو ناپسند کرتے تھے۔
٢٤٨٢٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم في الرجل (يستكري) (١) البيت فيكريه بأكثر مما استأجره، قال: يرد الفضل] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کرایہ پر مکان لے کر اس سے زیادہ کرایہ پر آگے دے دے تو زیادتی کو واپس کردیا جائے گا۔
٢٤٨٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) علي بن مبارك عن يحيى بن أبي كثير عن سعيد بن المسيب و (أبي) (٢) سلمة بن عبد الرحمن وعروة بن الزبير وسليمان بن يسار في الرجل يستأجر الدار (فيؤجرها) (٣) بأكثر مما (استأجرها) (٤) فرخص فيه اثنان وكرهه اثنان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب، حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن اور حضرت عروہ بن زبیر اور حضرت سلیمان بن یسار سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص مکان کرایہ پر لے کر اس سے زیادہ قیمت میں کرایہ پردے دے تو ان حضرات میں سے دو نے اس کی اجازت دی ہیں اور دو نے اس کو ناپسند کیا۔
٢٤٨٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال، (لا تأخذن) (١) (فضلا) (٢) من دابة تستأجرها ولا بيت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ گھر یا جانور جو کرایہ پر لیا ہے اس پر زیادتی وصول مت کرو۔
٢٤٨٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر عن طلحة عن إياس بن معاوية أنه قال: (إذا) (١) استأجرت غلاما أو (دكانا) (٢) فلا (تؤجره) (٣) بأكثر مما (استأجرته) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم دکان یا غلام کرایہ پر لو تو جتنا کرایہ لیا ہے اس سے زیادہ کرایہ پر مت دو ۔
٢٤٨٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا أبو هلال قال: سمعت شهر بن حوشب يكره أن يستأجر الرجل الشيء (فيؤجره) (١) بأكثر (من) (٢) أجره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شہر بن حوشب اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ آدمی کوئی چیز کرایہ پر لے کر زیادہ کرایہ پر آگے دے دے۔
٢٤٨٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه عن الربيع عن عكرمة قال: (هو) (١) حرام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ یہ حرام ہے۔
٢٤٨٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا شعبة عن حماد عن إبراهيم قال: هو ربا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ یہ سود ہے۔
٢٤٨٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري (قال) (١): سألته عن الرجل يستأجر الشيء (فيؤجره) (٢) (بأكثر) (٣) (مما) (٤) استأجره، فلم ير به بأسا، ثم سألته (عنه) (٥) بعد فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ کوئی شخص کرایہ پر چیز لے کر اس سے زیادہ کرایہ پر آگے دے سکتا ہے ؟ انہوں نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا، پھر بعد میں میں نے دوبارہ ان سے دریافت کیا تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا۔
٢٤٨٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عمر بن أيوب عن جعفر عن ميمون أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بھی اس کو ناپسند فرماتے تھے۔
٢٤٨٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم أنه كره أن يستأجر الرجل الدار ثم (يؤجرها) (١) بأكثر مما استأجرها، قال: قلت لإبراهيم: فإن (آجرها) (٢) بأكثر لمن يكون الأجر؟ قال: لصاحبها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ آدمی کرایہ پر مکان لے کر پھر زیادہ کرایہ پردے دے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے دریافت کیا کہ اگر وہ زیادہ کرایہ پردے دے تو کرایہ کس کا ہوگا ؟ فرمایا اس کے مالک کا۔
٢٤٨٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا مبارك عن يونس بن عبيد عن ابن سيرين أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین اس کو ناپسند فرماتے تھے۔
٢٤٨٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن محمد قال: كان أصحابنا الكوفيون يكرهونه ويقولون: (لم نشتر) (١) ولم نبع، فبأي شيء (نأكل) (٢) ماله؟.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے کوفہ کے اصحاب اس کو ناپسند فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ نہ ہم خریدیں اور نہ فروخت کریں ؟ پھر ہم کس طرح اس کا مال کھائیں گے ؟
٢٤٨٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عليه عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب وابن عمر أنهما كانا يكرهان إذا استأجر الرجل الشيء أن (يؤجره) (١) بأكثر مما استأجره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اِ س بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی شخص کرایہ پر چیز لے کر پھر اس سے زیادہ کرایہ پردے دے۔
٢٤٨٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن عوف قال: كان هشام بن هبيرة (يقضي) (١) من استأجر شيئًا (ثم آجره) (٢) بأكثر مما استأجر به أن ذلك الفضل لربه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ حضرت ہشام بن ھبیرہ فیصلہ فرماتے تھے کہ جو شخص کرایہ پر چیز لے کر آگے زیادہ کرایہ پردے دے تو زیادتی سود ہے۔
٢٤٨٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن الزبرقان عن إبراهيم مثل حديث وكيع عن منصور (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور سے اسی طرح مروی ہے۔