٢٤٧٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه عن ابن عباس عن الصعب بن (جثامة) (١) عن النبي ﷺ قال: "لا حمى إلا للَّه (ورسوله) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چراگاہ نہیں ہے مگر اللہ اور اس کے رسول کے لئے۔
٢٤٧٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن (منع) (١) فضل الماء ليمنع (به) (٢) الكلأ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد پانی کے روکنے سے منع فرمایا تاکہ اس سے زائد گھاس نہ روک سکے۔
٢٤٧٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن معمر عن (ابن) (١) طاوس أن أباه (كان) (٢) يكره بيع الكلأ في منبته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاؤس سے مروی ہے کہ حضرت طاؤس چراگاہ میں اگنے کی جگہ کی بیع کو ناپسند کرتے تھے۔
٢٤٧٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر أن عمر حمى (الربذة) (١) لنعم الصدقة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زائد چراگاہ کو صدقہ کے اونٹوں کے لئے وقف کر رکھا تھا۔
٢٤٧٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) (ثور الشامي) (٢) عن (حريز) (٣) بن عثمان عن أبي (خداش) (٤) عن رجل من أصحاب النبي ﷺ قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "المسلمون شركاء في (ثلاث) (٥): (الكلأ) (٦) والماء والنار" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین چیزوں میں سب مسلمان شریک ہیں ، چراگاہ ، پانی اور آگ۔