کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: آزادی، دین اور طلاق کے معاملات میں عورتوں کی گواہی کا حکم
٢٤١٥٨ - [حدثنا أبو بكر قال] (١): حدثنا حفص عن ابن عون عن الشعبي عن شريح أنه أجاز شهادة امرأتين في عتق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ آزادی کے معاملہ میں دو عورتوں کی گواہی قبول فرماتے (جائز قرار دیتے) تھے۔
٢٤١٥٩ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن عون عن الشعبي (عن شريح) (١) أنه أجاز شهادة امرأتين في عتق] (٢) إحداهما (خالته) (٣) -يعني (معهن) (٤) رجل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ دو عورتوں کی گواہی عتق کے معاملہ میں قبول فرما (جائز قرار فرما) لیتے تھے اگر ان کے ساتھ ایک مرد بھی ہو۔
٢٤١٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن الحكم عن إبراهيم قال: تجوز شهادة النساء في العتاقة (والوصية والدين) (١) -يعني (مع) (٢) الرجل.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ عورتوں کی گواہی مردوں کے ساتھ آزادی، دین اور وصیت میں جائز ہے۔
٢٤١٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن عامر عن شريح أنه كان يجيز شهادة النساء في الحقوق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح عورتوں کی گواہی حقوق میں جائز قرار دیتے تھے۔
٢٤١٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن برد عن مكحول قال: لا تجوز شهادة النساء إلا في الدين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ عورتوں کی گواہی دین کے علاوہ معاملات میں جائز نہیں۔
٢٤١٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن (جويبر) (١) عن الضحاك قال: (يجيز) (٢) شهادة النساء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ عورتوں کی گواہی کو جائز قرار دیتے تھے۔
٢٤١٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (١) مبارك عن الحسن قال: تجوز (شهادتهن) (٢) في الدين وفيما لا بد منه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ دین اور جو چیزیں ضروری ہوں ان میں دو عورتوں کی گواہی جائز ہے۔
٢٤١٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: سأل المغيرة بن (سعيدٍ) (١) الشعبيَّ: أتجوز شهادة الرجل والمرأتين في الطلاق؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن سعید سے دریافت کیا گیا کہ طلاق کے معاملہ میں مرد کے ساتھ دو عورتوں کی گواہی معتبر ہے ؟ فرمایا : ٹھیک ہے۔
٢٤١٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا جرير بن حازم عن الزبير ابن (الخريت) (١) عن أبي لبيد أن عمر أجاز شهادة النساء في الطلاق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ طلاق کے معاملہ میں عورتوں کی گواہی کو جائز (نافذ) قرا ر دیتے تھے۔