کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بازار کی دکانوں میں جانے کی اجازت لینا
حدیث نمبر: 24150
٢٤١٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن مغيرة عن إبراهيم قال: ليس على حوانيت السوق إذن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ بازار کی دکانوں کے لئے اجازت ضروری نہیں ہے۔ (اجازت لینا ضروری نہیں ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24150
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24150، ترقيم محمد عوامة 23121)
حدیث نمبر: 24151
٢٤١٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص وابن علية وعبد السلام عن داود عن الشعبي قال: إذا فتح (السوقي) (١) بابه وجلس (فقد) (٢) (أذن) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب دکاندار دروازہ کھول کر بیٹھ جائے، تو اجازت شمار ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24151
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24151، ترقيم محمد عوامة 23122)
حدیث نمبر: 24152
٢٤١٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن الأعمش قال: كان إبراهيم التيمي وإبراهيم النخعي وخيثمة وأصحابنا يأتونا في حوانيت السوق فلا (يزيدون) (١) على أن يقولوا: السلام عليكم، ثم يدخلون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش سے مروی ہے ابراہیم التیمی اور ابراہیم نخعی ، حضرت خیثمہ اور ہمارے اصحاب جب ہمارے پاس بازار کی دکان میں تشریف لاتے تو صرف السلام علیکم فرماتے پھر داخل ہوجاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24152
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24152، ترقيم محمد عوامة 23123)
حدیث نمبر: 24153
٢٤١٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن عمران بن (حدير) (١) عن عكرمة أنه قيل له: كان ابن عمر يستأذن على حوانيت السوق؟ فقال: ومن يطيق [ما كان (ابن) (٢) عمر يطيق] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے کہا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بازار کی دکانوں میں جانے کی اجازت لیتے تھے ؟ فرمایا جس چیز کی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما طاقت رکھتے تھے اس کی طاقت کون رکھ سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24153
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24153، ترقيم محمد عوامة 23124)
حدیث نمبر: 24154
٢٤١٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: كان ابن ⦗٤٣٢⦘ سيرين (يأتي) (١) في حجرة (بزي) (٢) (فيقول) (٣): السلام عليكم، ثم يلج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ ہماری دکان پر تشریف لاتے تو پہلے السلام علیکم فرماتے پھر داخل ہوتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24154
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24154، ترقيم محمد عوامة 23125)
حدیث نمبر: 24155
٢٤١٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن شعيب قال: كان أبو العالية (يأتي) (١) في بيت (بري) (٢) فيقول: السلام عليكم ألج؟ فأقول: رحمك اللَّه! إنما هي السوق، فيقول: إن الرجل ربما [خلا على حسابه، (و) (٣) ربما] (٤) خلا على الدراهم يتفقدها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعیب سے مروی ہے کہ حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ غلہ والے کمرے میں تشریف لاتے تو پوچھتے کہ السلام علیکم کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ میں نے عرض کیا اللہ آپ پر رحم فرمائے یہ تو بازار ہے ! فرمانے لگے، بعض اوقات انسان اپنا حساب کر رہا ہوتا ہے اور بعض اوقات دراہم کو شمار کر رہا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24155
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24155، ترقيم محمد عوامة 23126)
حدیث نمبر: 24156
٢٤١٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: كنت مع مجاهد في سوق الكوفة وخيام للخياطين (مقبلة) (١) على السوق مما يلي دور (بني) (٢) البكاء، فقال: كان ابن عمر يستأذن في مثل هذه؟ قال: (وقلت) (٣): كيف (كان) (٤) يصنع؟ قال: كان يقول: السلام عليكم ألج؟ ثم يلج (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں حضرت مجاہد کے ساتھ کوفہ کے بازار میں تھا، درزیوں کے خیمے (چبوترے) بنو البکّاء کے گھروں سے ملا ہوا جو بازار تھا اس کے سامنے نصب تھے، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان سے اس کی اجازت لیتے تھے۔ میں نے عرض کیا کس طرح کرتے تھے ؟ فرمایا : وہ فرماتے تھے السلام علیکم کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ پھر داخل ہوتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24156
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24156، ترقيم محمد عوامة 23127)
حدیث نمبر: 24157
٢٤١٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (عبادة) (١) بن مسلم ⦗٤٣٣⦘ (الفزاري) (٢) عن درهم (أبي) (٣) عبيد المحاربي قال: رأيت عليا أصابته السماء (وهو) (٤) في السوق، فاستظل بخيمة الفارسي، فجعل الفارسي يدفعه عن خيمته و (جعل) (٥) علي يقول: إنما أستظل من المطر (٦)، فأخبر الفارسي بعد أنه علي فجعل يضرب (٧) صدره (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت درھم ابو عبید المحاربی سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بازار میں دیکھا کہ بارش شروع ہوگئی، آپ ایک فارسی کے خیمہ کے سایے میں کھڑے ہوگئے۔ وہ فارسی آپ کو دھکیلنے لگا۔ علی رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ میں تو صرف بارش سے بچنے کے لیے یہاں رکا ہوں۔ بعد میں جب اس فارسی کو پتہ چلا کہ یہ علی رضی اللہ عنہ تھے تو وہ اپنے سینہ پر ہاتھ مارنے لگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24157
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24157، ترقيم محمد عوامة 23128)