کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات اِس کو ناپسند کرتے ہیں کہ کیل شدہ چیز کی کیل شدہ کے ساتھ بیع سلم کی جائے
٢٤١٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا يسلم ما يكال (فيما يكال) (١) ولا يسلم ما يوزن فيما يوزن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کیلی چیزوں کی کیلی چیزوں کے مقابلہ میں بیع سلم نہ کی جائے اسی طرح وزنی چیزوں کی وزنی چیزوں کے بدلے بیع سلم نہ کی جائے۔
٢٤١٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر عن ابن جريج عن عبد اللَّه بن طاوس عن (أبيه) (١) قال: لا يُسلم (طعامٌ) (٢) في طعام ولا (طعام) (٣) في لحم، وكان لا يرى بأسا أن يسلم طعاما في الشاة القائمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ کھانے کی کھانے کے بدلہ میں بیع سلم نہیں کی جائے گی اور نہ ہی گوشت کی گوشت کی بدلہ میں بیع سلم کی جائے گی۔ البتہ وہ اس بات میں حرج نہیں سمجھتے تھے کہ کھانے کی بیع سلم زندہ بکری کے ساتھ کی جائے۔
٢٤١٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن (ابن) (١) سالم (٢) قال: قال الشعبي: لا يشتري شيئا يكال بشيء (يكال) (٣) إلى أجل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کیلی چیزوں کی کیلی چیزوں کے ساتھ سلم کرتے ہوئے مت فروخت کرو۔
٢٤١٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب (بن) (١) عطاء عن ابن أبي عروبة عن الحسن وقتادة أنهما كرها أن يسلم طعاما في طعام.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت قتادہ کھانے کی کھانے کے بدلہ سلم کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
٢٤١٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: لا بأس أن يسلم ما يكال فيما يكال (و) (١) ما يوزن فيما يوزن، إنما هو (طعام) (٢) (بطعام) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ کیلی چیزوں کی کیلی چیزوں کے ساتھ اور وزنی چیزوں کی وزنی چیزوں کے ساتھ سلم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بیشک یہ کھانے کے بدلہ میں کھانا وصول کرنا ہے۔