کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: جن حضرات نے اِس کی اجازت دی ہے
❮
❯
٢٤١٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الوليد بن عيسى السعدي قال: قلت للحسن: إن لنا تيوسا نؤاجرها، قال: لا بأس ما لم (تحلب) (١) أو (تبسر) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ سے پوچھا : ہماری بکریاں ہیں ہم ان کو اجرت پر دیتے ہیں۔ فرمایا : جب تک دودھ نہ نکالے اور جفتی کے لئے نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24120
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24120، ترقيم محمد عوامة 23093)
٢٤١٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء قال: لا ⦗٤٢٥⦘ تأخذ على ضراب الفحل أجرا، ولا بأس أن تعطي (إذا لم) (١) لم تجد (من) (٢) يطرقك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سانڈ کو جفتی پردے کر اجرت مت لو اگر اس کی کوئی خبر گیری کرنے والا نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24121
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24121، ترقيم محمد عوامة 23094)
٢٤١٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (الأعمش) (١) عن (٢) المسيب بن رافع قال: كانوا يدخلون على علقمة وهو (يُقرع) (٣) غنمه -يعني ينزي عليها التيس ويعلف ويحلب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت المسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علقمہ کے پاس تشریف لے گئے، تو جفتی کروائی جا رہی تھی اور چارہ کھلا رہے تھے اور دودھ نکال رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24122
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24122، ترقيم محمد عوامة 23095)