حدیث نمبر: 24013
٢٤٠١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن ابن عون عن محمد قال: أراد مكاتب أن يعطي مولاه المال (كله) (١)، فقال: لا آخذه إلا نجوما، (فكتب) (٢) له عثمان عتقه، فأخذ المال (و) (٣) قال: أنا أعطيكه نجوما، فلما رأى ذلك الرجل أخذ المال (٤).
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے مروی ہے کہ اگر مکاتب اپنا بدل کتابت سارا اکٹھا ادا کرنے کا ارادہ کرے، لیکن اس کے آقا نے کہا میں تو قسط قسط کر کے (تھوڑا، تھوڑا کر کے) لوں گا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غلام کو آزاد کرنے کا حکم دیا اور اس سے مال لے کر رکھ لیا فرمایا میں اس کو تھوڑا تھوڑا کرتا رہوں گا ، جب آقا نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے سارا مال ایک ساتھ وصول کرلیا۔
حدیث نمبر: 24014
٢٤٠١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن هاشم عن (ابن) (١) أبي ليلى عن (أبيه عن) (٢) ضبة قال: رفع إلى عمر مكاتب جاء بالمال بجملته، فقال مولاه: لا ⦗٣٩٦⦘ أقبله منك، إنما كاتبتك لآخذه منك نجوما في السنين (ينفعني) (٣)، ولعلك مع ذلك (أن) (٤) تموت فأرثك، فأمر عمر بالمال فوضعه في بيت المال ثم (أجراه) (٥) عليه نجوما وأمضى عتقه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس مسئلہ گیا کہ مکاتب اپنا سارا بدل کتابت ایک ساتھ لے آیا ہے لیکن آقا نے کہا میں اس کو ایک ساتھ وصول نہیں کروں گا، میں نے اس کو مکاتب اس لئے بنایا تھا کہ میں اپنے نفقہ کے طور پر اس سے دو سال تک تھوڑا تھوڑا کر کے وصول کرتا رہوں گا اور اس دوران شاید یہ فوت ہوجائے تو اس کا وارث بنوں، حضرت نے حکم دیا کہ مال اس سے لے کر بیت المال میں رکھ دو ، پھر اس کے آقا کو قسط وار دیتے رہو، اور اس کے غلام کے لئے آزادی کا فیصلہ فرما دیا۔
حدیث نمبر: 24015
٢٤٠١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن عبد العزيز بن رفيع عن أبي بكر بن عمرو بن حزم أن رجلًا كاتب غلاما له فنجمها عليه نجوما فأتاه بمكاتبته كلها، فأبى أن يقبلها المولى إلا نجوما، فأتى المكاتب عمر (فأرسل) (١) إلى مولاه فجاء فعرض عليه المال، فأبى أن يأخذه فقال عمر: يا يرفأ (ادفعه) (٢) في بيت المال، وقال للمولى: (خذها) (٣) نجوما، وقال للمكاتب: اذهب حيث شئت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عمرو بن حزم سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا، اور اس پر قسط وار بدل کتابت ادا کرنے کی شرط لگائی، مکاتب اپنا سارا بدل کتابت لے کر آیا، تو اس کے آقا نے سارا ایک ساتھ وصول کرنے سے انکار کردیا، وہ مکاتب حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اس کے آقا کی طرف بلاوا بھیجا، وہ آیا تو آپ نے اس پر وہ سارا مال پیش کیا، لیکن اس نے وصول کرنے سے انکار کردیا، حضرت عمر نے فرمایا اے یرفأ! اِ س مال کو بیت المال میں رکھ دے، اور آقا سے فرمایا بیت المال سے قسط وار وصول کرتا رہے۔ اور غلام سے فرمایا تو جا تو آزاد ہے۔