کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص دوسرے کی زمین پر بغیر اُس سے پوچھے کاشت کرے
حدیث نمبر: 23898
٢٣٨٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن عطاء عن رافع ابن خديج رفعه قال: من زرع في أرض قوم بغير إذنهم فليس له من الزرع شيء، ويرد عليه نفقته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی غیر کی زمین کو اس کی اجازت کے بغیر کاشت کرے تو کاشت میں سے اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس کو اس کا نفقہ (خرچہ) واپس کردیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23898
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23898، ترقيم محمد عوامة 22885)
حدیث نمبر: 23899
٢٣٨٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن قيس بن مسلم عن الحسن بن محمد قال: مر النبي ﷺ على زرع يهتز (فسأل) (١) عنه، فقالوا: رجل زرع أرضا بغير إذن صاحبها، فأمره أن يردها ويأخذ نفقته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن محمد فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایک سرسبز زمین کے پاس سے گذرے آپ نے اس زمین کے متعلق دریافت کیا، لوگوں نے عرض کیا کہ ایک شخص نے دوسرے کی زمین پر بغیر اجازت کا شت کیا ہے، آپ نے اس کو واپس کرنے کا حکم دیا اور حکم دیا کہ نفقہ (خرچہ) واپس لے لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23899
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن ليس صحابيًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23899، ترقيم محمد عوامة 22886)
حدیث نمبر: 23900
٢٣٩٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن أبي جعفر الخطمي قال: بعثني (عمي) (١) (أنا) (٢) (وغلاما) (٣) له إلى سعيد بن المسيب فقال: ما تقول في المزارعة؟ قال: كان ابن عمر لا يرى بها بأسا، حتى حُدّث (عن) (٤) رافع بن خديج (فيها) (٥) حديثا أن رسول اللَّه ﷺ (أتى) (٦) بني حارثة فرأى زرعا في أرض ظهير، فقال: "ما أحسن زرع (ظهير) (٧)! "، (فقالوا) (٨): إنه ليس لظهير، قال: "أليست الأرض أرض ظهير؟ " قالوا: بلى، ولكنه زارع فلانا، قال: "فردوا عليه نفقته وخذوا (أرضكم) (٩) وزرعكم" (١٠)، قال رافع: فرددنا عليه نفقته وأخذنا زرعنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اور ایک لڑکے کو میرے چچا نے حضرت سعید بن المسیب کے پاس بھیجا، ان سے دریافت کیا کہ آپ مزارعت کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ فرمایا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے، یہاں تک کہ ان کو رافع بن خدیج سے یہ حدیث بیان کی گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنی حارثہ کے پاس آئے اور آپ نے ظھیر کی زمین کو دیکھا، اور فرمایا : ظُھیرکی کھیتی کتنی عمدہ اور اچھی ہے ! ، لوگوں نے عرض کیا : یہ ظھیر کی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : کیا یہ ظھیر کی زمین نہیں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا، کیوں نہیں، لیکن اس کو فلاں شخص نے (بغیر اجازت) کاشت کیا ہے۔ فرمایا : اس کو اس کا نفقہ (خرچہ) واپس کردو، اور تم اپنی کھیتی واپس لو، حضرت رافع فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کو نفقہ واپس کردیا اور کھیتی واپس لے لی، حضرت سعید فرماتے ہیں کہ اپنے بھائی کو عاریتاً زراعت کے لیے دے دو یا پھر چاندی کے بدلے کرایے پردے دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23900
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو داود (٣٣٩٩)، والنسائي ٧/ ٤٠، الطحاوي في شرح المشكل (٢٦٧٠)، والطبراني (٤٢٦٧)، والبيهقي ٦/ ١٣٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23900، ترقيم محمد عوامة 22887)
حدیث نمبر: 23901
٢٣٩٠١ - قال سعيد: (أفقر) (١) (أخاك) (٢) أو أكره بورق.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23901
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23901، ترقيم محمد عوامة ---)