٢٣٩٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم عن شريح قال: لا تجوز شهادة اليهودي والنصراني إلا في سفر، ولا (تجوز) (١) إلا على وصية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ یہودی اور نصرانی کی گواہی صرف سفر اور وصیت میں جائز ہے۔
٢٣٩٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زكريا عن الشعبي أن رجلا من خثعم توفي (بدقوقاء) (١) فلم يُشهد على وصيته إلا نصرانيين، فأحلفهما أبو موسى بعد (العصر) (٢) باللَّه: ما خانا ولا كتما ولا بدلا، و (إنها) (٣) (لوصيته) (٤) فأجاز شهادتهما (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کا ایک شخص دقوقا مقام میں وفات پا گیا، اس نے اپنی وصیت پر صرف دو نصرانیوں کو گواہ بنایا۔ اُن دونوں کو ابو موسیٰ نے عصر کے بعد ان الفاظ کے ساتھ قسم دی کہ خدا کی قسم ! ہم نے خیانت نہیں کی، نہ ہی اس کو چھپایا ، اور نہ ہی اس کو تبدیل کیا ، بیشک یہی وصیت ہے، پھر انہوں نے ان نصرانیوں کی گواہی کو نافذ کردیا۔
٢٣٩٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن عون عن ابن سيرين عن عبيدة ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [المائدة: ١٠٦]، قال: من أهل الكتاب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ قرآن پاک کی آیت { أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَیْرِکُمْ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ اہل کتاب مراد ہیں۔
٢٣٩٠٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن مغيرة عن إبراهيم ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ قال: من أهل (دينكم) (٢)] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ { أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَیْرِکُمْ } سے مراد تمہارے دین کے علاوہ لوگ ہیں۔
٢٣٩٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن التيمي عن سعيد بن المسيب أنه قال مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب بھی اسی طرح مروی ہے۔
٢٣٩٠٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: (حدثنا) (١) التيمي عن أبي مجلز أنه قال مثل ذلك] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
٢٣٩٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) قال: أخبرنا مغيرة عمن سمع سعيد بن جبير يقول مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
٢٣٩٠٩ - [حدثنا أبو بكر (قال: حدثنا هشيم) (١) قال: حدثنا منصور وغير واحد عن الحسن قال: من غير عشائركم] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ تمہارے خاندان کے علاوہ لوگ مراد ہیں۔
٢٣٩١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم عن هشام) (١) عن ابن سيرين قال: سألت عبيدة عن ذلك فقال: من غير أهل دينكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ فرمایا تمہارے دین کے علاوہ لوگ مراد ہیں۔
٢٣٩١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود عن الحكم بن عطية عن ابن سيرين ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾، قال: من سائر الملل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ { أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَیْرِکُمْ } سے مراد ساری ملتوں والے لوگ ہیں۔
٢٣٩١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثنا عبد اللَّه بن عبد الرحمن (الجمحي) (١) عن الزهري في قوله (تعالى) (٢): ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ قال: هم من أهل الميراث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ قرآن پاک کی آیت { أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَیْرِکُمْ } کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ میراث والوں میں سے ہیں۔