٢٣٨٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن طارق عن سعيد بن المسيب عن رافع بن خديج عن النبي ﷺ (قال) (١): "إنما يزرع ثلاثة: رجل (منح) (٢) (أرضًا) (٣) فهو (يزرع ما منح) (٤) ورجل (له أرض فهو يزرعها) (٥)، ورجل (استكرى) (٦) أرضا بذهب أو فضة" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک زمین کی کاشت صرف دو طرح سے ہے، ایک وہ شخص جس کو زمین دی جائے تو وہ اس میں کاشت کرے، دوسرا وہ شخص جس کی اپنی زمین ہے اور اس کو کاشت کرتا ہے اور تیسرا وہ شخص جو زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر لے۔
٢٣٨٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ربيعة (بن) (١) أبي عبد الرحمن (عن حنظلة) (٢) بن قيس قال: سألت رافع بن خديج عن (كراء) (٣) الأرض البيضاء بالذهب والفضة فقال: حلال لا بأس به (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کو ری زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینا کیسا ہے ؟ فرمایا : حلال ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
٢٣٨٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن يعلى بن عطاء عن القاسم بن عبد اللَّه قال: سألت (سعدا) (١) عن (كراء) (٢) الأرض (بالذهب) (٣) والفضة فقال: لا بأس به، ذلك قرض الأرض (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد سے کو ری زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ فرمایا : کوئی حرج نہیں ، یہ زمین کا قرضہ ہے۔
٢٣٨٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام الدستوائي عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: لا بأس (بكراء) (١) الأرض بالذهب والفضة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ کو ری زمین کو سونے اور چاندی کے بدلہ کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
٢٣٨٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن زكريا عن داود عن سعيد بن جبير قال: لا بأس (بكراء) (١) الأرض البيضاء بالذهب والفضة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔
٢٣٨٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر قال: كان سالم وسعيد بن المسيب وعروة والزهري لا يرون (بكراء) (٢) الأرض البيضاء بالذهب والفضة بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم، حضرت سعید بن المسیب، حضرت عروہ اور حضرت زہری رحمہ اللہ کو ری زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
٢٣٨٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن سعيد ابن جبير عن ابن عباس قال: إن أمثل ما أنتم صانعون: أن تستأجروا الأرض البيضاء بالذهب والفضة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ بیشک تمہارے پیشوں میں سے بہتر پیشہ یہ ہے کہ تم زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دیتے ہو۔
٢٣٨٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن (الفضيل) (١) عن سالم قال: أما الأرض البيضاء (فإنا) (٢) نكريها بالذهب والورق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ بیشک کو ری زمین اس کو ہم سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دیں گے۔
٢٣٨٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا بأس أن تستأجر الأرض البيضاء بالذهب والورق، وما أراد إن (تستأجرها) (١) به.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو شخص زمین کرایہ پر دینے کا ارادہ کرے تو وہ کو ری زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پردے سکتا ہے۔
٢٣٨٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يعلى بن عبيد عن حجاج بن دينار قال: سألت أبا جعفر عن الأرض البيضاء ليس فيها شجر ولا زرع؛ تستأجرها (بالدراهم والدنانير) (١) قال: هو حسن، كذلك نفعل بالمدينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کو ری زمین جس پر درخت اور کھیت نہیں ہے اس کو ہم دراہم اور دینار کے بدلے کرایہ پر دیتے ہیں ؟ فرمایا : یہ اچھا ہے، ہم بھی مدینہ منورہ میں اسی طرح کرتے تھے۔
٢٣٨٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن (إبراهيم) (١) بن سعد عن محمد بن عكرمة (٢) (بن) (٣) الحارث عن محمد بن عبد الرحمن [(بن) (٤) أبي لبيبة] (٥) عن سعيد بن المسيب عن (سعد) (٦) قال: كنا نكري الأرض على عهد رسول اللَّه ﷺ بما (٧) على السواقي من الزرع وما صعد بالماء (منها) (٨) فنهانا رسول ⦗٣٦٤⦘ اللَّه ﷺ-عن ذلك وأمرنا أن (نكري) (٩) بالذهب والورق (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اکرم ﷺ کے دور میں زمین کو پانی لگانے والوں کو کرایہ پر دیتے تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور فرمایا ہم سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دیا کریں۔
٢٣٨٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد قال: سألت سعيد بن المسيب عن يتيم لي له أرض فقال: إن كنت مكريها فأكرها بذهب أو فضة.
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے دریافت کیا کہ میرے پاس ایک یتیم ہے جس کی زمین بھی ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر تو کرایہ پر زمین دینا چاہتا ہے تو اس کو دراہم اور دینار کے بدلے دے دے۔
٢٣٨٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن معاوية بن إسحاق قال: سألت سعيد (بن جبير) (١) عن إجارة الأرض فقال: لا بأس بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے کرایہ پر زمین دینے کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔