کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص اس حال میں مرے کہ اُس پر قرضہ ہو اور اُس کے پاس کفن نہ ہو
٢٣٨٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عمر بن علي بن عطاء بن مقدم عن أيوب أبي العلاء قال: سمعت (الحكم) (١) يقول: يبدأ بالكفن ثم الدين ثم الوصية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ کفن سے ابتداء کی جائے گی (پہلے کفن کا بندوبست کیا جائے گا) پھر قرضہ ادا کیا جائے گا پھر وصیت پر عمل ہوگا۔
٢٣٨٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن بعض أصحابه عن إبراهيم قال: يبدأ بالكفن ثم الدين ثم الوصية ثم الميراث.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں پہلے کفن دیا جائے گا، پھر قرضہ ادا کیا جائے گا، پھر وصیت پوری کی جائے گی پھر میراث تقسیم ہوگی۔
٢٣٨٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن مغيرة عن إبراهيم قال: يبدأ بالكفن قبل الدين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں قرضہ کی ادائیگی سے قبل کفن دفن کا انتظام کیا جائے گا۔
٢٣٨٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن جابر عن عامر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے اسی طرح مروی ہے۔
٢٣٨٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن عمرو عن الحسن قال: يبدأ بالكفن قبل الدين.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ قرض کی ادائیگی سے پہلے کفن کا انتظام کیا جائے گا۔
٢٣٨٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عائذ) (١) بن حبيب عن حجاج عن عبد الكريم عن سعيد بن جبير قال: يبدأ بالكفن ثم الدين ثم الوصية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، پہلے کفن کا انتظام کیا جائے گا پھر قرض کا پھر وصیت پر عمل ہوگا۔