کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص کسی کو سامان فروخت کرے ایک مقررہ وقت کے لئے اور شرط لگا دے کہ اگر اُس مدت سے قبل فروخت کیا تو وہ اُس کا زیادہ حق دار ہے
حدیث نمبر: 23650
٢٣٦٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معتمر) (١) بن سليمان عن سلم بن أبي (الذيال) (٢) قال: سألت محمدًا عن رجل باع سلعة إلى (شهرين) (٣) شرط على المشتري إن باعها قبل الشهرين أن ينقده، قال: لا أعلم به بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے دو ماہ کے لئے سامان فروخت کردیا اور مشتری پر شرط لگا دی کہ اگر اس کو دو ماہ سے قبل ہی بیچنا پڑے تو مجھ کو ہی واپس بیچ دے گا، آپ نے فرمایا کہ میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
حدیث نمبر: 23651
٢٣٦٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عبد العزيز ابن رفيع قال: بعت من رجل جارية وشرطت عليه إن تبعها نفسي، قال: ⦗٢٩٩⦘ (فتبعتها) (١) نفسي فخاصمته إلى شريح فقال: قد أقررت بالبيع فبينتك على الشرط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیز بن رفیع فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو باندی فروخت کی ، اور اس پر شرط لگا دی کہ اس کو مجھے فروخت کرے گا، پھر اس نے اس کو مجھے فروخت کردیا، میں اس جھگڑے کو حضرت شریح کے پاس لے گیا، آپ نے فرمایا : تو نے بیع کے ساتھ اقرار کیا ہے، پس تجھے شرط پر گواہ لانے پڑیں گے۔
حدیث نمبر: 23652
٢٣٦٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا شريك (عن) (١) عبد العزيز بن رفيع عن (شريح) (٢) أنه أجاز الشرط لبضعة عشر يوما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ نے چند دنوں کے لئے شرط کو جائز ( نافذ) قرار دیا۔