کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب تم قرض وغیرہ دو تو جو دیا ہے اُسی کے مثل لو
٢٣٦٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن سماك عن الحسن قال: إذا فرضت عددا فخذ عددا، و (إذا) (١) فرضت وزنا فخذ وزنا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب تم گن کردو تو گن کرلو، اور اگر وزن کر کے دو تو پھر وزن کر کے لو۔
٢٣٦٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن أيوب عن محمد أنه كان يكره أن يسلف عددا (و) (١) يأخذ وزنا.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ اِ س بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کسی کو قرض عدداً دے اور اس سے وزناً وصول کرے۔
٢٣٦٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن (باذام) (١) قال: رأيت إياس بن معاوية ولي سكر (نبق) (٢) فكان يستقرض القصب وزنا و (يرده) (٣) وزنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت باذام فرماتے ہیں کہ میں نے ایاس بن معاویہ کو جو سکر بثق کے ولی تھے ان کو دیکھا، سونے کی ٹکیا وغیر ہ وزناً قرض لیتے تھے اور وزناً واپس کرتے تھے۔
٢٣٦٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن ومحمد أنهما (قالا) (١) في رجل اقترض من رجل دراهم (عددا بأرض) (٢) فجازت بوزنها (أيقضيه) (٣) وزنا؟ فكرها ذلك وقالا: لا يقضيه إلا مثل دراهمه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے دوسرے سے زمین کے بدلے گن کر دراہم قرض لیے، کیا وہ قرض کی ادائیگی وزن کے ساتھ کرسکتا ہے ؟ آپ دونوں حضرات نے اِ س کو ناپسند فرمایا اور فرمایا کہ وہ اسی کے مثل کے ساتھ قرض ادا کرے۔
٢٣٦٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن (حكيم) (١) بن ⦗٢٩٧⦘ (رزيق) (٢) عن أبيه عن سعيد بن المسيب في رجل كان له على رجل ألف لبنة من لبن كبار، والكبار تباع مائتين (بدرهم) (٣) والصغار خمسين ومائتين، قال: نقصه من حقه فهو يحلله إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ ایک شخص کی دوسرے پر ہزار بڑی اینٹیں قرض تھیں، بڑی اینٹ ایک درہم کے بدلہ میں دو سو ملتی ہیں جب کہ چھوٹی اینٹ ایک درہم کے بدلہ میں اڑھائی سو ملتی ہیں۔ پس وہ چاہے تو اس کو مباح کرسکتا ہے۔
٢٣٦٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا روح بن عبادة عن ابن جريج عن عطاء قال: الوزن بالوزن، والعدد بالعدد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وزن کی ( ادائیگی اور واپسی ) وزن کے ساتھ اور عدد کی عدد کے ساتھ۔