حدیث نمبر: 23179
٢٣١٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن مغيرة عن الحارث قال: نكل رجل عند شريح عن اليمين فقضى شريح (١)، فقال (الرجل) (٢): أنا أحلف، فقال شريح: قد مضى قضائي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت شریح رحمہ اللہ کے سامنے قسم اٹھانے سے انکار کردیا، حضرت شریح رحمہ اللہ نے فیصلہ فرما دیا، اس شخص نے عرض کیا کہ میں قسم اٹھاتا ہوں ، حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا میرا فیصلہ اب ہوچکا ہے۔
حدیث نمبر: 23180
٢٣١٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن (ابن) (١) جريج عن ابن أبي مليكة عن ابن عباس أنه أمره أن يستحلف امرأة، فابت أن تحلف فألزمها ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک خاتون سے قسم اٹھانے کا کہا، اس نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا، تو انہوں نے وہ قسم اس کو لازم کردی۔ (یعنی بغیر قسم کے اس کے حق فیصلہ نہیں کیا جائے گا)
حدیث نمبر: 23181
٢٣١٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد عن سالم أن ابن عمر باع غلامًا له بثمانمائة درهم، فوجد به المشتري عيبا فخاصمه إلى عثمان، فقال له عثمان: بعته بالبراءة، فأبى أن يحلف، فرده عثمان عليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے آٹھ سو درہم کا ایک غلام فروخت فرمایا۔ مشتری نے اس میں عیب پایا، وہ جھگڑا لے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کہ : آپ نے عیب سے بری ہو کر فروخت کیا تھا ؟ انہوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غلام ان کو واپس لٹا دیا۔
حدیث نمبر: 23182
٢٣١٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة وابن شبرمة قالا: اشترى عبد اللَّه غلاما (لامرأة) (١)، فلما ذهب به إلى منزله حم الغلام (فجاء ليرد الغلام) (٢) فخاصمه إلى الشعبي، فقال لعبد اللَّه: بينتك أنه دلس (للرد) (٣) عيبًا؟ فقال: ليس لي بينة، فقال (للرجل) (٤): احلف أنك لم تبعه (ذا) (٥) داء، فقال: الرجل إني أرد اليمين على عبد اللَّه، فقضى الشعبي باليمين عليه، فقال: إما أن تحلف وإلا جاز عليك الغلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ اور حضرت شبرمہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ نے ایک غلام خریدا، جب اس کو لے کر مکان پر پہنچے تو غلام کو بخار ہوگیا، وہ غلام کو واپس کرنے کے لئے لے کر آئے، جھگڑا حضرت شعبی رحمہ اللہ کے پاس لے گئے، آپ رحمہ اللہ نے حضرت عبد اللہ سے فرمایا : اس پر گواہ پیش کرو کہ اس نے تیرے سے غلام کے عیب کو چھپایا ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا میرے پاس گواہ نہیں ہیں، حضرت شعبی رحمہ اللہ نے دوسرے شخص سے فرمایا : آپ قسم اٹھاؤ کہ آپ نے غلام بیماری کی حالت میں فروخت نہیں کیا۔ اس شخص نے کہا کہ میں قسم کو عبد اللہ پر لٹاتا ہوں، حضرت شعبی رحمہ اللہ نے ان پر قسم اٹھانے کا فیصلہ فرمایا اور فرمایا : آپ قسم اٹھاؤ وگرنہ آپ پر غلام لازم ہوجائے گا۔