کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: ام ولد اگر فحش کام کر ے تو کیا وہ دوبارہ غلامی میں آ جائے گی یا نہیں؟
❮
❯
٢٢٩٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: إذا أتت أم (ولد) (١) بفاحشة لا يرقها ذلك، فهي على حالها إذا مات سيدها عتقت.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر ام ولد کوئی فحش کام کرے تو وہ دوبارہ غلامی میں نہیں آئے گی ، بلکہ وہ اپنی حالت پر برقرار رہے گی۔ جب اس کا آقا فوت ہوگا تو وہ آزاد شمار ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22963
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22963، ترقيم محمد عوامة 22020)
٢٢٩٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه قال: كان الحسن وإبراهيم لا يريان أن تباع أم الولد وإن بغت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور ابراہیم رحمہ اللہ ام ولد کی بیع کو درست نہ سمجھتے تھے اگرچہ وہ کوئی فحش کام کرے، اور حضرت ابن سیرین اس کی بیع کے قائل تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22964
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22964، ترقيم محمد عوامة 22021)
٢٢٩٦٥ - وكان ابن سيرين يرى أن تباع.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22965
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22965، ترقيم محمد عوامة ---)
٢٢٩٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبان بن صمعة عن بكر بن عبد اللَّه المزني قال: كتب عمر بن عبد العزيز في أم ولد: هي حرة وإن بغت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز نے تحریر فرمایا تھا کہ ام ولد اگرچہ کوئی فحش کام کرے وہ آزاد ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22966
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22966، ترقيم محمد عوامة 22022)
٢٢٩٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي حصين عن الشعبي قال: أم (الولد) (١) لا يرقها (الحدث) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی بھی نیا کام ( حادثہ) ام ولد کو دوبارہ غلامی میں نہیں لائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22967
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22967، ترقيم محمد عوامة 22023)
٢٢٩٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي هلال عن قتادة عن عمر بن عبد العزيز قال: لا تباع أم الولد وإن فجرت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ اگرچہ ام ولد کوئی فحش کام کرے پھر بھی اس کو فروخت نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22968
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22968، ترقيم محمد عوامة 22024)
٢٢٩٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا جرير (بن) (١) حازم قال: (سألت) (٢) سالم بن عبد اللَّه (أو سأله) (٣) رجل قال: أم (ولد إذ) (٤) فجرت أبيعها، قال: لا، فجورها على نفسها وهي امرأة حرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ اگر ام ولد کوئی فحش کام کرے تو میں اس کو فروخت کر کرسکتا ہوں ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نہیں، اس کا غلط کام اس کے نفس پر ہے ( وبال اسی پر ہے ) وہ آزاد ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22969
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22969، ترقيم محمد عوامة 22025)
٢٢٩٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا يزيد بن إبراهيم عن ابن سيرين عن مالك بن عامر الهمداني قال: قال عمر في أم الولد: إن هي (أحصنت وأسلمت (وعفّت) (١) عتقت، وإن هي فجرت) (٢) وكفرت وزنت رقت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ام ولد کے متعلق ارشاد فرمایا : اگر وہ پاکدامن اور مسلمان رہے تو وہ آزاد ہے، اور اگر اس نے غلط کام کیا ہے ؟ کافرہ ہوگئی اور زنا کروایا تو وہ دوبارہ غلامی میں آجائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22970
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22970، ترقيم محمد عوامة 22026)