٢٢٥٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: (إذا) (١) أفلس العبد المأذون له في التجارة، (فدينه) (٢) (في) (٣) رقبته، فإن شاء مولاه أن يبيعه باعه ويقسم ثمنه بين الغرماء، وليس عليه أكثر من ثمنه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر عبد ماذون مفلس ہوجائے، تو اس کا قرض اس کی گردن پر ہے، اس کے آقا کو اختیار ہے اگر چاہے تو اس غلام کو فروخت کر دے اور قیمتقرض خواہوں کے درمیان تقسیم کر دے، آقا پر اس کے ثمن سے زائد کچھ لازم نہیں ہے۔
٢٢٥٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن قال: [إن شاؤوا أن يبيعوه باعوه، وإن شاؤوا أن يستسعوه استسعوه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر قرض خواہ اس کو فروخت کرنا چاہیں تو فروخت کردیں، اگر اس سے کام کروانا چاہیں تو کام کروا لیں۔
٢٢٥٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن الشعبي أنه كان يقول] (١): إن شاؤوا أن يبيعوه باعوه، وإن شاؤوا استسعوه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر قرض خواہ اس کو فروخت کرنا چاہیں تو فروخت کردیں، اگر اس سے کام کروانا چاہیں تو کام کروا لیں۔
٢٢٦٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن مطرف عن الحكم قال: لا يباع حتى يحيط الدين برقبته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک قرض اس کی پوری ملکیت کو نہ گھیر لے تب تک اس کو فروخت نہیں کریں گے۔
٢٢٦٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن ابن عون عن ابن سيرين أن عبد الرحمن بن أذينة أوتي (في) (١) عبد ركبه دين فقال: ماله بدينه، ماله بدينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن اذنیہ رحمہ اللہ کے پاس ایک غلام لایا گیا جو مقروض تھا، آپ نے فرمایا : اس کا مال اس کے قرض کے ساتھ ہے، اس کا مال اس کے قرض کے ساتھ ہے۔
٢٢٦٠٣ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن هشام عن ابن سيرين قال: دينه في ثمنه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا قرض اس کے ثمن میں ہے۔
٢٢٦٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الحسن (بن) (١) صاع (عن) (٢) الحسن (بن) (٣) عمرو عن فضيل عن إبراهيم قال: لا يباع العبد في الدين، وإن كان عليه مائة ألف.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام کو قرض میں فروخت نہیں کریں گے، اگرچہ اس پر ایک لاکھ قرض ہو۔
٢٢٦٠٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان قال: حدثنا الحسن (ابن) (١) عمرو عن رجل عن إبراهيم، قال: يسعى العبد في الدين ولا يباع] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ قرض میں غلام سے کام کروایا جائے گا اس کو فروخت نہیں کیا جائے گا۔
٢٢٦٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن الشيباني عن الشعبي عن شريح في الرجل يأذن لعبده أن يستدين قال: كان يرى أن يباع للغرماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر غلام کو آقا قرض لینے کی اجازت دے دے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ قرض خواہوں کے لئے غلام کو فروخت کرے۔