کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: دو آدمی کسی چیز پر دعویٰ کریں پھر اُن میں سے ایک دو گواہ پیش کر دے اور دوسرا ایک گواہ پیش کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22591
٢٢٥٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن داود عن الشعبي قال: كانت دابة في أيدي (أناس) (١) من الازد، فادعاها قوم فأقاموا البينة أنها ⦗٣٢⦘ دابتهم أضلوها في زمان عمر بن عبد العزيز، فأقام (الذين) (٢) هي في أيديهم البينة أنهم نتجوها، فرفع ذلك إلى قاضيهم عبد الرحمن بن (أذينة) (٣)، فجعل هؤلاء يغدون ببينة ويروح (الآخرون) (٤) بأكثر منهم [(فكتب) (٥) (في) (٦) ذلك إلى شريح] (٧) فكتب إليه: (لست) (٨) من التهاتر، والتكاثر في شيء، (و) (٩) (الذين) (١٠) (أقاموا) (١١) البينة أنهم نتجوها وهي في أيديهم أحق، (وأولئك) (١٢) أولى بالشبهة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ قبیلہ ازد کے لوگوں کے پاس ایک جانور تھا، اس پر ایک قوم نے دعویٰ کیا اور گواہ پیش کر دئیے کہ یہ ان کا جانور ہے، جو حضرت عمر بن عبد العزیز کے دور میں گم ہوگیا تھا، اور جانور جن کے قبضہ میں تھا انہوں نے بھی گواہ پیش کر دئیے کہ وہ جانور ان کے ہاں پیدا ہوا ہے۔ معاملہ ان کے قاضی عبد الرحمن بن اذنیہ کے سامنے پیش ہوا، ان میں سے ایک فریق صبح آ کر گواہ پیش کرتا تو دوسرا فریق شام میں اس سے زیادہ گواہ پیش کردیتا، قاضی نے حضرت شریح رحمہ اللہ کو صورت حال لکھ کر بھیجی، حضرت شریح رحمہ اللہ نے لکھا کہ گواہوں کی کثرت کا اعتبار نہیں ہے، جنہوں نے گواہ پیش کئے ہیں کہ وہ ان کے ہاں پیدا ہوا ہے اور وہ جانور ان کے قبضے میں ہے وہ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22591
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22591، ترقيم محمد عوامة 21683)
حدیث نمبر: 22592
٢٢٥٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم في الرجلين يدعيان الدابة ليست في يد واحد منهما، فيقيم أحدهما شاهدين، والآخر أربعة فقال: هي بينهما نصفين؛ لأن الاثنين يوجبان الحق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ دو آدمیوں نے ایک جانور کے بارے میں دعویٰ کیا، اس جانور پر دونوں میں سے کسی کا قبضہ نہیں تھا، ان میں سے ایک نے دو گواہ پیش کئے تو دوسرے نے چار گواہ پیش کر دئیے، آپ نے فرمایا جانور دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوگا، کیونکہ دو گواہ حق کو واجب کردیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22592
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22592، ترقيم محمد عوامة 21684)
حدیث نمبر: 22593
٢٢٥٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: هي بينهم على حصص الشهود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ان کے درمیان گواہوں کے حصوں کی بقدر ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22593
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22593، ترقيم محمد عوامة 21685)
حدیث نمبر: 22594
٢٢٥٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن (عوف) (١) أن هشام بن هبيرة كان يقضي لأكثر الفريقين شهودًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن ھبیرۃ فریقین میں سے جس کے گواہ زیادہ ہوتے اس کے حق میں فیصلہ فرماتے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22594
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22594، ترقيم محمد عوامة 21686)
حدیث نمبر: 22595
٢٢٥٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عاصم بن كليب عن محمد ابن كعب قال: (بعت) (١) بغلة من رجل، (فلبث) (٢) ما شاء اللَّه، فأتاني وقد عرفت البغلة عنده، فأتينا شريحا وانطلقت (بالدابة) (٣)، فأقام سبعة من الشهود أنها دابته (٤) لم تبع ولم تهب، وجاء الآخر بستة من الشهود أنها دابته لم تبع ولم تهب، فقال شريح: أشهد (بأن) (٥) أحد الفريقين كاذب، فقسمها بينهم على ثلاثة (عشر سهمًا) (٦) أعطى كل واحد منهما بحصة (شهوده) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک شخص کو خچر فروخت کیا، پس وہ جتنی دیر اللہ نے چاہا رہا، پھر وہ میرے پاس آیا، میں نے اس کے پاس خچر کو پہچان لیا، ہم دونوں حضرت شریح کے پاس آئے۔ میں اس جانورکو لے کر چل پڑا، ایک نے سات گواہ قائم کر دئیے کہ یہ اس کا جانور ہے ۔ اس کو نہ بیچا گیا ہے نہ ہبہ کیا گیا ہے، اور دوسرا آیا اس نے چھ گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا جانور ہے نہ اس کو بیچا گیا ہے نہ ہبہ کیا گیا ہے۔ حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک فریق یقینا جھوٹا ہے۔ آپ نے اس کو ان کے درمیان تیرہ حصّوں میں تقسیم فرما دیا، ہر ایک کو اس کے گواہوں کے بقدر حصہ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22595
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22595، ترقيم محمد عوامة 21687)
حدیث نمبر: 22596
٢٢٥٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن سماك عن (حنش) (١) بن المعتمر عن علي (قال) (٢): اختصم إليه رجلان في بغلة، فأقام هذا خمسة شهداء (بأنها) (٣) نتجت عنده، (وأقام) (٤) هذا شاهدين ⦗٣٤⦘ (بأنها) (٥) نتجت عنده، (فجعلها) (٦) (عليٌ) (٧) (بينهم أسباعًا) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں دو آدمی ایک خچر کے متعلق جھگڑتے ہوئے آئے، ایک نے پانچ گواہ پیش کر دئیے کہ وہ جانور اس کے ہاں پیدا ہوا ہے، اور دوسرے شخص نے دو گواہ پیش کر دئیے کہ وہ اس کے ہاں پیدا ہوا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو ان کے درمیان سات حصوں میں تقسیم فرما دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22596
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع حكمًا؛ حنش ضعيف، وحجاج مدلس.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22596، ترقيم محمد عوامة 21688)