٢٢٥٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي مكين عن عكرمة قال: لا بأس (بكراء) (١) الأرض بالطعام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ زمین کو گندم کے بدلے کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
٢٢٥٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا بأس أن يستأجر الرجل الأرض البيضاء بالحنطة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ آدمی اپنی زمین گندم کے بدلے کرایہ پردے دے۔
٢٢٥٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن زياد بن أبي مسلم قال: سألت سعيد بن جبير عن كراء الأرض بالدراهم والطعام فلم ير به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ زمین دراہم یا گندم کے عوض کرایہ پر دینا کیسا ہے ؟ آپ نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا۔
٢٢٥٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان (عن سعيد بن أبي عروبة عن) (١) أبي معشر عن إبراهيم قال: لا بأس أن (تأخذ) (٢) بطعام مسمى.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں اگر ہم مقرر کرکے گندم وصول کریں۔
٢٢٥٩٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد بن أبي عروبة عن يعلى بن (١) حكيم عن سليمان بن يسار عن رافع بن خديج قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من كانت له أرض فليزرعها أو ليزرعها أخاه، ولا (يكريها) (٢) بثلث ولا (بربع، ولا) (٣) بطعام مسمى" (٤)] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کے پاس زمین ہے اس کو چاہیے کہ خود کھیتی باڑی کرے، یا پھر اپنے بھائی کے لئے چھوڑ دے، اس زمین کو ثلث یا ربع پر کرایہ پر مت دے اور نہ ہی مقررہ گندم پر دے۔