٢٢٤٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن عبد الملك عن عطاء في رجل كانت له على رجل دراهم، فلما حلت قال: أمسكها مضاربة، قال: (لا، يصلح) (١) حتى يقبضها منه، ثم يدفعها إليه إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص کے دوسرے کے پاس کچھ دراہم تھے، جب واپسی کا وقت آیا تو اس نے اس سے کہا کہ اس کو بطور مضاربت اپنے پاس رکھ لے، اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے ٹھیک نہیں ہے جب تک وہ اس سے لے کر قبضہ نہ کرلے پھر اگر چاہے تو اس کو دوبارہ دے دے۔
٢٢٤٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: الوديعة مثل القرض، لا تدفع مضاربة حتى تقبض.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ امانت بھی قرض کی طرح ہے، قبضہ کرنے سے پہلے اس کو بطور مضاربت مت دو ۔
٢٢٤٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث (في) (١) رجل كان له على رجل دراهم فقال له: (اشتر لي) (٢) بها شيئًا، [فقال: لا بأس، وإن هلك الذي اشترى له، فبينته أنه (له) (٣) اشترى وإلا لم يصدق أنه اشتراه له، وإن كانت مضاربة فلا يشتري له بها شيئًا] (٤) حتى (يقبضها) (٥) أو يعطيها وليًا له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث سے مروی ہے کہ ایک شخص کے ذمہ دوسرے کے کچھ دراہم بطور امانت تھے، اس شخص نے اس سے کہا کہ ان سے میرے لئے کچھ خرید لے، آپ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، ہاں اگر وہ چیز ہلاک ہوگئی اس کو گواہ پیش کرنے پڑیں گے کہ وہ اس کے لئے خریدا گیا تھا، وگرنہ اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی کہ وہ اس کے لئے خریدا گیا تھا، اور اگر وہ بطور مضا ربت ہو تو وہ اس سے اس کے لئے کچھ نہ خریدے جب تک کہ وہ اس پر قبضہ نہ کرلے یا اس کو اس پر کوئی ولی نہ دے دے۔
٢٢٤٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: يكره إذا كان له على الرجل دين أن (يُسْلِمَه) (١) إليه في شيء حتى يقبضه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کسی آدمی کا کسی پر قرضہ ہو تو وہ قرضہ کی رقم قبضہ کیے بغیر بیع سلم میں اس کے حوالے نہ کرے۔
٢٢٤٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن الشعبي في رجل كان له على رجل دين فأسلمه إليه، قال: لا، حتى (يقبضه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کسی شخص پر کسی کا دین ہو تو وہ اس سے بیع سلم کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں جب تک کہ وہ اس پر خود قبضہ نہ کرلے۔
٢٢٤٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن (أبي) (١) شهاب عن العلاء بن المسيب عن الحكم قال: تصرف المضاربة في الدين، ولا يصرف الدين في المضاربة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ مضاربت کو قرض کی طرف پھیرا جاسکتا ہے مگر قرض کو مضاربت کی طرف نہیں پھیرا جاسکتا۔
٢٢٤٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (سفيان عن كليب ابن) (١) وائل قال: سمعت ابن (عمر) (٢) سئل عن رجل كان (له) (٣) على رجل دين. فأراد أن (يسلمه) (٤) إليه في طعام فكرهه، وقال: لا، حتى (يقبضه) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ کسی شخص کے ذمہ کسی کا قرض تھا، پھر اس شخص نے ارادہ کیا کہ اس کی طرف سے طعا م میں ادا کر دے، آپ نے اس کو ناپسند فرمایا اور فرمایا کہ نہیں، جب تک کہ وہ قبضہ نہ کرے ایسا نہ کرے۔